mujrayi khalq mein Salam mujrayi khalq meinUrduSalam
مجرئی خلق میں، ان آنکھوں نے کیا کیا دیکھا
پر کہیں سبطِ، پعیمبر سا نہ آقا دیکھا
کہتی تھیں زینبِ، مضطر کہ خدا خیر کرے
رات کو خواب میں، اُریاں سرِ زھراء دیکھا
میں نے دیکھا علمِ، شاہ کو آلودہ خون
میں نے نیزے، پہ سرِ دلبرِ زہرا دیکھا
میں نے دیکھا علی، اصغر کا گلا خون میں تر
میں نے عباس کو، ریتی پہ تڑپتا دیکھا
ایک گٹھری شہِ دین، پشت پہ لائے اُسمیں
میں نے ٹکڑے ہوئے، قاسم کا سراپا دیکھا
گر پڑے سبطِ نبی، تھام کے، ہاتھوں سے جگر
علی اکبر کو، جو ریتی پہ تڑپتا دیکھا
بےردا خلق نے۔ اس، بی بی کے۔ سر کو دیکھا
جس کی مادر کا، کسی نے نہ جنازہ دیکھا
ہائے کیوں ہو نہ گئیں، کوڑہ کہ ان آنکھوں نے
قید خانے میں، سکینہ کا جنازہ دیکھا
جا کے زینب نے مدینے میں، کہا صغریٰ سے
کہوں کِس منہ سے کہ، پردیس میں کیا کیا دیکھا
ظلم ہے مجرعی، سجاد نے کیا کیا دیکھا
گھر لٹا قید ہوئے، باپ کا لاشہ دیکھا