Naad e Ali ka wird jo karti chali gayi Manqabat Naad e Ali ka wird jo karti chali gayiUrduManqabat
نادِ علی کا ورد جو کرتی چلی گئی
عمرِ رواں سکون سے گزرتی چلی گئی
دیوانہ وار لوگ بھی مرتے چلے گئے
تیغِ علی جہاں سے گزرتی چلی گئی
جس نے درِ حسین پہ سر کو جھکا دیا
وہ شخصیت جہاں میں اُبھرتی چلی گئی
دنیا سے ذکرِ آلِ محمد نہ رک سکا
دنیا یہ آرزو لئے مرتی چلی گئی
مرحب ہوا میں اُچھلا جو کھا کر علی کی ضرب
ہاتھوں سے تیغ پیروں سے ڈھرتی چلی گئی
فوجِ عُدو پہ ڈال کے ایک سرسری نگاہ
سر کو اڑاتی سر سے گزرتی چلی گئی
میداں میں تیز دستی تیغِ علی نہ پوچھ
سر سے چلی بدن میں اُترتی چلی گئی
گوہرؔ لحد میں پہنچا جو اشکِ عزا لیئے
اک روشنی لحد میں اُترتی چلی گئی
موت آ رہی تھی دیکھا جو لب پر علی کا نام
مجھ سے ملے بغیر گزرتی چلی گئی