← All lyrics

کعبے میں ہے مولود کے سیپی میں گوہر ہے

Yeh maula Ali hai

Cover image for Yeh maula Ali hai
Language
Urdu
کعبے میں ہے مولود کے سیپی میں گوہر ہے یہ نور کی بارش ہے کے حوروں کا سفر ہے دیوار بنی در یہ تو حیدر کا اثر ہے مکے کی فضاؤں میں بھی پھیلی یہ خبر ہے کس نور سے ملنے کو چلا نورِ نبی ہے ہمت تھی یہ کس میں در خیبر کو اکھاڑے انتر کو کرے زیر و مرحب کو پچھاڑے گہوارے میں لیٹے ہوئے اژدر کو بھی پھاڑے ڈوبے ہوئے سورج کو جو مغرب سے اُبھارے یہ کون عجائب کا مظہر کون ولی ہے کعبے سے امامت کی کرن پھوٹ رہی ہے ہلچل ہے ملائک میں کہ صف ٹوٹ رہی ہے کفار و منافق کی کمر ٹوٹ رہی ہے مکے کی زمین در نجف لوٹ رہی ہے قدسی کی صدا تا بہ فلک صرف یہی ہے گلشن میں ہر ایک پھول پہ مستی سی چڑھی ہے غنچے پہ تبسم ہے کہ پُر کیف گھڑی ہے نرجس بھی ہے خوشحال صدا چشم بھری ہے گلزار کی ہر شاخ ترف کعبہ مڑی ہے *اس گلِ محمد کے بغل میں جو کلی ہے یہ مہِ ولاء ہم نے بڑی شان سے پی ہے ہم سے جو بچی تھی اُسے جبرائیل نے پی ہے میثم نے اسے چڑھ کے سرِ دار پہ پی ہے شب روز ابوذر نے جلاوطنی میں پی ہے اس میکدہ ِ کوثر کا فقط ایک دھنی ہے اونٹوں کی قطاروں کو جو خیرات کیا ہو سہ روزوں کی جو نانے جمے بخش دیا ہو سائل کو رکوع میں جو انگوٹھی کو دیا ہو شب روز یتیموں میں غذاء صرف کیا ہو *حاتم ہے کجا یہ تو سخی ابنِ سخی ہے معراج ہوئی عرش کی جب آئے محمد دیدار کی الفت میں پہنچ پائے محمد آواز تھی مانوس نہ گھبرائے محمد چاہا کرے سوال پر شرمائے محمد آواز یہ کسکی ہے جو پردے سے چلی ہے مسجد کے میناروں کی صداؤں میں چھپا ہے کعبے کے ہر ایک سنگ کے اندر یہ کھدا ہے ہر قلب پہ مومن کے یہ از خون لکھا ہے دشمن بھی ہے انجان مگر یہ تو پتا ہے *یہ آخری مرسل کا بلا فصل وصی ہے اللہ کا ولی لم یزلی مولا علی ہے احمد کا وصی کشف ِولی مولا علی ہے خیبر کا غنی نادِ علی مولا علی ہے محشر کا شفی نورِ جلی مولا علی ہے شب روز یہ کہتا ہے تقیؔ عشقِ منی ہے ہجرت کی رات جانِ محمد پر بنی ہے ایک جان ہے خطرے میں تو ایک جان بچی ہے بستر پہ ہے کوئی کوئی ہمراہِ نبی ہے دشمن یہ سمجھتے ہیں کہ چادر میں نبی ہے *یہ کون ہے بستر پہ جو ہم شکلِ نبی ہے