Basta — Page 62

Original book page
Original scan of Basta page 62

Urdu text

ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کا لائحہ ہمارا موقف و مقصد یہ ہے کہ سوزخوانی کی ہر بستی اور ہر عزاخانے کے لئے اسی علاقے کی کم از کم ایک ایسی نوجوان و ہونہار، مخلص و باصلاحیت رضاکار سوزخواں پارٹی ضرور تیار کر دی جائے کہ جو اس علاقے / عزاخانے کی عزائی (سوزخوانی) ضروریات کی تکمیل و کفالت کر سکے۔ ہماری [چند الفاظ غیر واضح] مرکزی و علاقائی تربیتی نشستیں ہماری اسی خواہش و مقصد کا مظہر ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم بانیانِ مجالس اور اپنے ادارے کے رضاکار سوزخوانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حتی المقدور دوسرے سوزخوان حضرات کو خدمت و معاونت کا موقع دیں، اور جب جہاں کوئی دوسرا بہتر قابل سوزخواں دستیاب نہ ہو تب ہی وقتِ ضرورت وہ اپنی خدمات پیش کریں۔ یعنی جہاں کوئی نہ ہو وہاں ادارے کے رضاکار سوزخوان حاضر ہیں۔ (محتاجِ دعا: س۔ج) شائقینِ سوزخوانی کی توجہ کے لئے [پچھلے مضمون کا تسلسل] عباس بھی دیتے ہیں لیکن آپ کا علم، باصلاحیت اور غیر شجرہ ہونا ضروری ہے۔ ہم اچھا سوزخواں ہی نہیں، آپ کو ایک اچھا انسان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بطور مثال ہمارے ادارہ کے نوجوان رضاکار سوزخواں یقیناً آپ کے پیشِ نگاہ ہوں گے، جو سب اچھے خاندانی، تعلیم یافتہ، مذہب اور مخلص مثالی افراد ہیں۔ اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے ہمارے ساتھی سوزخواں کاشف زیدی صاحب سے فون ۰۳۰۰-۹۲۶۸۹۵۳ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ (محتاجِ دعا: س۔ج) ذاکرینِ عظام و مومنینِ کرام کے لئے ایک غور طلب نکتہ (متعلقہ سکینہ اور شہزادہ علی کی شہادت کے حوالے سے) یہ میرا ذاتی خیال ہے، میں نے تو اب کسی ذاکر و خطیب و شاعر سے سنا نہ ہی کبھی پڑھا، لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ بات سچ ہوگی۔ مقاتل میں ملتا ہے کہ بچوں کی پیاس اور بالخصوص شہزادی سکینہ کی شدتِ عطش کے پیشِ نظر مولا عباس کو پانی لانے کے لئے نہر پر جانے کی اجازت ملی۔ جنگ کی اجازت اور تلوار آزمائی کی چنانچہ آپ گھوڑے پر سوار ایک نہر کی طرف بڑھے اور [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ آپ کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح جلد سے جلد پانی تمام بچوں، بالخصوص شہزادی سکینہ تک پہنچ جائے۔ اس کوشش میں کئے بعد زخم کھائے، آپ کے دونوں دستِ مبارک قطع / شہید ہوئے مگر آپ نے کسی نہ کسی طرح مشکیزہ تیروں اور نیزوں سے بچائے رکھا اور ہاتھ قطع ہونے کے بعد دندانِ مبارک میں مشک کو دبا لیا، لیکن جب ایک شقی کے تیر سے مشکیزہ بھی چھد گیا اور سارا پانی بہہ گیا تو پھر [جاری]