Basta — Page 61

Original book page
Original scan of Basta page 61

Urdu text

مدت کی گئی بالکل اسی طرح جیسے کہ ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر اور ڈش انٹینا وغیرہ یکسر اور اصلاً اور مطلقاً حرام نہیں، مگر ان کا استعمال اور ان سے نشر ہونے والے پروگرام چونکہ اخلاق و کردار اور اعصاب و اطوار پر بڑے اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لئے ان سے دوری و بیزاری ہی بہتر ہے۔ تاہم مناسب، مضبوط اور مستحکم ہاتھوں میں ان کا استعمال یقیناً سودمند اور کارِ ثواب بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر حفاظت، خود اختیاری اور تخریب کاری سے نمٹنے کے لئے اسلحہ اور قانون کے محافظ مذہب و ذمہ دار اور پاک کردار ہاتھوں میں ہو تو نعمت، ورنہ سراسر مصیبت۔ [چند الفاظ غیر واضح] لائسنس کی پابندی یا اس کی کثرت و بیانات کی مضبوط قانونی و حقیقی عوام کو مجرم قرار دینے یا انہیں مجرموں، تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ سرکار تو نیک نیتی سے یہ چاہتی ہے کہ کوئی قانون کو ہاتھ میں نہ لے اور غیر ذمہ دار ہاتھوں میں یہ خطرناک اسلحہ پہنچنے سے روکا جائے۔ وجود و واقعہ یا استعمال بجائے خود قطعاً نہیں، عملی استعمال قابلِ لحاظ ہے۔ یہی معاملہ موسیقی، غنا اور گائیکی کا بھی ہے کہ کون کہاں کس لئے کیوں کب کتنا اس کا استعمال کر رہا ہے۔ یوں کسی وقتی ضرورت اور شرفِ انسانیت کے بھی خلاف ہے کہ وہ بازاروں اور گلیوں میں عامیانہ و فحش کلام کا تماشا کرے۔ معزز ذاکرین، شعراء اہل بیت اور عزاداروں کی توجہ کے لئے ایک غور طلب نکتہ ایک چھوٹے سے شاعرِ اہل بیت ہونے کی حیثیت سے میں مذہبی شاعری میں واقعیت و حقیقت (Facts) کا قائل و عامل ہوں اور اس میں مبالغہ آرائی، غلو یا افسانویت و مفروضیت Fiction کا قائل نہیں ہوں کہ ایک چھوٹا سا مفروضہ بھی ساری حقیقت و واقعیت کو مشکوک و ساقط الاعتبار بنا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے فی زمانہ ہمارے بہت سے خطباء کرام اور نوجوان شعراء اہل بیت اس سلسلے میں غیر ذمہ داری یا غیر محتاط روی کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں ہو پاتا کہ وہ دانستگی میں خود مدحین کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ اگر اس سلسلے میں بالخصوص ہمارے نوجوان شعراء کرام، نوحہ خواں اور منقبت خواں حضرات ذی علم و ذمہ دار افراد سے مشاورت کریں تو بہت سے مسائل و تنازعات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ یہ کام اور نگرانی کراچی کی سطح پر ہاشمی انجمن کی فیڈریشن، مرکزی تنظیمِ عزاء، بطریقِ احسن سر انجام دے سکتی ہے تاکہ غیر معیاری کلام اور عامیانہ و بازاری طرزوں پر مشتمل مناقب و نوحہ جات سے نجات مل سکے۔ سوزخوانی میں چونکہ بالعموم اساتذۂ متقدمین اور عہدِ حاضر کے مستند شعراء کرام کا کلام پڑھا جاتا ہے اور بندشیں بھی مخصوص نوعیت اور مقررہ حدود و قیود میں ہوتی ہیں، اس لئے بحمد اللہ سوزخوانی اب تک غیر معیاری کلام اور بازاری و عامیانہ بندشوں / طرزوں سے محفوظ و مامون ہے، اور سوزخوانوں کی اکثریت اپنی عام عملی اور فنی زندگی میں بھی مذہب و شائستہ اطوار و طرزِ عمل کی مالک ہے۔ (محتاجِ دعا: س۔ج)