Basta — Page 69

Urdu text
یہ دیکھنے کی ان کی کتاب میں آپ کو فنی تحریکوں کے ایک ایسے سوزخوان کے استادوں کے وجود دکھائی دیتے ہیں۔ استاد اشتیاق علی کے خلیفہ یا جانشین بھی ہیں، لیکن ان سب باتوں کے باوجود دوسرے سوزخوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے فن کی صحیح تعریف کرنے میں کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتے۔
ہر مذہب، پیشہ / شعبہ میں اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ ان اصولوں پر بھرپور اور فنکارانہ اندازِ کار برقرار ہوتا ہے۔ سبط جعفر نے کتاب میں نعت خواں، سوزخواں کے لئے مرادِ سوز کے ساتھ آدابِ مجلس کے طور طریقے، دورانِ ادائیگی پیش آنے والے نزاکت و مقامات اور مختلف سوزخوانوں کی رہنمائی کے لئے کچھ رہنما اصول بھی بتائے ہیں جو ہماری تہذیبی ضرورت و ورثہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ سوزخوانوں کے لئے سوزوں کی ادائیگی میں پابندی، سوزخوانوں کا کردار اور اخلاق و وضع، تلفظ، اندازِ نشست و برخاست، آدابِ محفل اور دوسری متعلقہ باتوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ اچھے نعت خواں / سوزخواں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مذہب، مستند تعلیم یافتہ، باکردار، متقی، ہنر مند، سچا مسلمان اور اچھا انسان ہو، خوش گلو ہو، آواز پائیدار اور پُرسوز ہو، نظری صلاحیت کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کی مناسب سمجھ بھی رکھتا ہو۔
اسی طرح سوزخوانوں کے متعلق سبط جعفر کی رائے ہے کہ وہ صاحبِ لباس، وضعِ قطع اور اچھے اطوار اختیار کریں۔ سوزخوان کو آدابِ نشست و برخاست کا بھی خیال رکھنا چاہئے، منبر پر گفتگو یا ہنسی مذاق کے بجائے ادب و وقار ملحوظ رہے۔
یا تقریر کرنا، بار بار غیر مناسب گویا ہونا، لوگوں کو زبردستی داد و تحسین یا گریہ و بکا کی دعوت دینا، آواز یا طرز کا غیر ضروری اظہار — یہ سب سوزخوانی اور سوزخواں کی شان و وقار کے منافی ہیں۔ دورانِ مجلس بازوؤں کو آدابِ مجلس سکھانا اور ان کی تربیت کرنا بھی مناسب طرزِ عمل ہے۔
یہ ساری باتیں بظاہر چھوٹی چھوٹی معلوم ہوتی ہیں لیکن مجموعی طور پر فن کے وقار اور مجلس کی کیفیت کو بہتر بناتی ہیں۔ وقت کا لحاظ اور ترتیب بھی ضروری ہے۔
بندہ آخر کتب موضوعات پر کتاب لکھنا جتنا آسان ہے اتنا ہی پیچیدہ اور سامنے کے موضوعات پر قلم اٹھانا دشوار ہے۔ سبط جعفر نے حسنِ قرأت، نعت خوانی، سوزخوانی، نوحہ خوانی، سماع، قوالی جیسے موضوعات پر تحریر کر کے ایک خلا پُر کیا۔ [اختتامی دعا / سلام]