Basta — Page 68

Original book page
Original scan of Basta page 68

Urdu text

پروفیسر سید اظہر حیدر رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان صدر شعبۂ قانون، وفاقی گورنمنٹ اردو کالج کل شہروں کا وارث ہرگز آسان ہے لیکن کچھ صدیوں میں صاحبِ کمال، اہلِ نظر اور ماہر ساز و فنکاروں کو صحیح طریقے سے شناخت کرنا بہت دشوار کام ہے۔ سید سبط جعفر کی کتاب “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” کے مطالعے سے یہ پتہ چلا ہے کہ سبط جعفر نہ صرف ایک طرف شاعر، خطیب، یادگار اور قانونی ماہر / ادیب ہیں بلکہ دوسری طرف صاحبِ طرز قوالوں، سوزخوانوں وغیرہ بالخصوص استاد مسعود علی خان، استاد واحد حسین خان، استاد اشتیاق علی خان، محترم [نام غیر واضح] وغیرہ کے فن کو ایک ثقافتی فریضہ ادا کر کے محفوظ بھی کر رہے ہیں۔ عرصۂ دراز سے یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ سوزخوانی کی بابت اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی کہ دینی و فنی حلقوں کو دینی چاہئے تھی۔ لوگ ذاکروں، نوحہ خوانوں اور قصیدہ خوانوں سے تو واقف ہوتے تھے لیکن فنی سوزخوانی سے ناواقف رہتے۔ کتابیں بھی کم تھیں۔ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اور ہمارا ذوقِ فن ضرور ہوا کہ مصنف کے یہاں افراد نے بیک وقت ایک ہی شہر کراچی کو سوزخوانی کے ذیل میں دوسرے صاحبانِ کمال کے علاوہ محترم سبط جعفر جیسا ایک معتبر، منفرد مقام کا فنکار دیا ہے۔ سوزخوانی کا اپنا ایک اسلوب، ایک اسکول اور ادارہ ہے جو کہ قومی بھی وجہ سے ان کے ساتھ قائم و جاری ہوگا۔ ان کے اس فنی جانب کو مزید وسیع اور ان کو تحفظ دینا چاہئے۔ سبط جعفر نے انفرادی طور پر مشہور و معروف سوزخوان حضرات کا ذکر کیا، ان کے فن کی باریکیوں پر روشنی ڈالی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے سوزخوانی کے موجودہ دبستانوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ سید سبط جعفر نے سوزخوان حضرات کا ذکر کرتے ہوئے ذاتی تعلقات و مقامات پر شناخت کرنے کی کوشش کی۔ [متن جزوی طور پر غیر واضح] ان کی تعریف و توصیف میں بہت سے سادہ و باریک نکات دکھائی دیتے ہیں، اور معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کے ہاں فن و شخصیت دونوں کی قدر موجود ہے۔