Basta — Page 71

Urdu text
حکیم محمد سعید شہید
سچ بات یہ ہے کہ مجھے پہلی بار صوتی علوم و فنونِ اسلامی پر نئے انداز سے غور و فکر کا موقع ملا۔ آپ نے یقیناً ایک نئے انداز اور بالخصوص نئے اسلوب سے اس موضوع پر کام و کلام کیا ہے۔ اب آپ سرفراز احمد صاحب کے مشورے پر عمل کیجئے اور ڈاکٹریٹ کی تیاری کیجئے۔ جزاک اللہ، بارک اللہ۔
ڈاکٹر سید کلب صادق مدظلہ
بحمد اللہ میرا تعلق سرزمینِ اردو لکھنؤ سے ہے جو مرثیہ و سوزخوانی کا اولین مرکز و منبع رہا ہے۔ مولانا کے ذکر کے طفیل تقریباً ساری دنیا کے سفر اور جانے کے بعد میں نہایت ذمہ داری اور افسوس سے عرض کر رہا ہوں کہ بدقسمتی سے صرف وہاں بلکہ اب یہ قدیم تکنیکی اور روایتی مقدس فن دنیا بھر سے تقریباً ختم ہو چلا ہے۔ آپ کو دیکھ کر اور سن کر بڑی دلی مسرت، تقویت اور طمانیت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آپ اس عہد کے سب سے بڑے باکمال و صاحبِ فن نمائندہ سوزخواں ہیں۔ میری دلی خواہش بلکہ تمنا ہے کہ آپ میرے غریب خانہ پر سوزخوانی کریں۔
امداد نظامی
(ریڈیو پاکستان کوئٹہ / بلوچستان، عنوان جزوی طور پر غیر واضح)
فنِ سوزخوانی بلاشبہ ایک بلند آہنگ مستقل فن، عظیم دینی فنی ورثہ اور مقدس مذہبی روایات کا مظہر و محافظ ہے۔ فنِ سوزخوانی کی اس دور میں اہمیت کے باوجود جو توجہ کی مستحق تھی نہ کی گئی۔ اسے علمی سطح پر تحقیق کا موضوع بنایا گیا، اسی لئے اس کے بنیادی [متن جاری / جزوی طور پر غیر واضح]۔
[ایک سابقہ تاثرات کا تسلسل]
آداب، اسالیب اور روایات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کیلئے کوئی دستاویز ترتیب دی گئی۔ اس خلا کی بنا پر سوزخوانی کافی اپنی داخلی توانائی اور آخر میں بڑے بڑے غیر محسوس لیکن تکنیکی انداز میں ایک تقلیدی روش میں ڈھلتا جا رہا تھا۔ اسے اس اندر سے بڑا چلا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ فن اپنی اعلیٰ اقدار سے محروم ہو کر محض ایک رسمی فریضہ نہ بن جائے۔
صوتی علوم و فنون اسلامی کو دیکھ کر اور مصنف کی سوزخوانی سن کر مجھے بڑی طمانیت ہوئی ہے کہ نوجوان اس کارِ گراں کو تحقیق اور کسی نامور استاد کے متند و جانشینی سے مشرف اور خود بھی صاحبِ طرز اور باکمال سوزخواں پروفیسر سید سبط جعفر نے اس طرف توجہ دی اور سوزخوانی کو بنیاد بنا کر ایک ایسا علمی تحقیقی کارنامہ انجام دیا ہے جس کے ذریعے حسنِ قرأت سے سوزخوانی تک تمام صوتی علوم و فنون اسلامی پر سیر حاصل بحث بھی کی گئی ہے۔
سوزخوانی کے فن کے تاریخی پس منظر کے ساتھ اس کے نامور اساتذہ کا بھی مؤثر انداز میں تذکرہ کیا ہے اور اس فن کے آداب، روایات، اسالیب اور تقاضوں کے سلسلے میں بنیادی اصولوں کی مفصل معلومات فراہم کی ہیں اور یہ کام عملی تحقیق کا بھی ایک مکمل نمونہ ہے۔ اس سے نہ صرف تمام اسلامی صوتی علوم و فنون کے بارے میں جامع معلومات کا ایک سرچشمہ فراہم ہوگا بلکہ اس کی بدولت وہ بنیادیں بھی فراہم ہوں گی جو بالخصوص سوزخوانی کے فن کو زندہ رکھنے اور نئی توانائیاں عطا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔