Aao Baba ko rukhsat karo Noha Aao Baba ko rukhsat karoUrduNoha
عباس! آؤ بابا کو رخصت کرو
آج بازو بھی ہیں اور جنازہ بھی ہے
آؤ بابا کو رخصت کرو
بیٹیاں تھیں، جنازہ تھا، احساس تھا
دور بابا کی میت سے عباس تھا
وقتِ رخصت کا فرج ہٹایا گیا
آخری بار چہرہ دکھایا گیا
اپنے عباس کا جب خیال آ گیا
دے کے آواز شبیر نے یہ کہا
جانتا ہوں بہت صبر تم نے کیا
اپنے بابا کے قاتل کو پانی دیا
زخم گہرا ہے اب بھی شَکِستہ ہے سر
اُسنے تلوار سے وار ایسا کیا
ضرب کے زخم سے، خون پھر نہ بہے
دیکھو میّت رکھی ہے بہت دیر سے
جب سے بابا نے چومے ہیں شانے تیرے
کربلا یاد آتی ہے بھائی مجھے
ایک زخمی بدن ہو گا جب بے کفن
کون آئے گا بھائی اُٹھانے اُسے
آج سب ہیں چلو، تم میرا ساتھ دو
دور بیٹھو نہ اب میرے غازی اُٹھو
بس یہ ارمان ہوتا ہے ہر باپ کا
میرے بیٹے اُٹھائیں جنازہ میرا
کہہ کہ یہ بات شبیر رونے لگے
اور پھر ہاتھ سینے پہ رکھ کر کہا
ایسا نہ ہو کبھی، باپ اُٹھائے کوئی
اپنے کاندھے پہ میّت جواں لعل کی
جیسے امّاں نے مجھ کو بلایا سنو
تم بھی بابا کو ایک بار آواز دو
ماں کی طرح سے بندھِ کفن توڑ کر
اپنے سینے سے تمکو لگا لیں گے وہ
اُنکا احساس ہو، تم تو عباس ہو
میرے بابا کے دل کے بہت پاس ہو
تھام کر اپنی ٹوٹی ہوئی پسلیاں
دیکھو بابا کے پہلو میں بیٹھی ہیں ماں
ہائے غربت وہی ہاتھ پہلو پہ ہے
تازیانوں کے جس پر ہیں اب بھی نشان
دیکھو اے با وفا، ساتھ ہیں مصطفی
چل کے بابا کو اب بول دو الوداع
یاد ہے تمکو بابا نے جاتے ہوئے
ہاتھ رکھا تمہارا میرے ہاتھ پہ
تمکو شب کی نمازوں میں مانگا گیا
اے میرے بھائی کربوبلا کے لئے
کیا یہ صدمہ ہے کم، ہیں یتیم آج ہم
ہائے آغازِ کربوبلا ہے یہ غم
بات بہنوں کی آئی تو غازی اُٹھے
اپنے بابا کی میّت کی جانب چلے
آکے بابا کے قدموں کا بوسہ لیا
اے رضؔا حال زیؔشان کیسے لکھے
جب جنازہ اُٹھا، گھر میں کہرام تھا
روکے عباس نے بھائیوں سے کہا
دیکھو بابا کی میّت سے لپٹی ہے وہ
تم ہی زینب کے جینے کی امید ہو
بھائی شبر نے رخ سے ہٹایا تھا جو
اپنے ہاتھوں سے تم وہ کفن باندھ دو
عکسِ خیبر شکن، مر نہ جائے بَہن
تمکو دیکھے گی تو چھوڑ دے گی کفن