aao ro lein shahe karbala ko Salam aao ro lein shahe karbala koUrduSalam
جو بھی گرتا ہے اِس غم میں آنسو
کوئی بیکار جاتا نہیں ہے
آؤ رولیں شہِ کربلا کو
زندگی کا بھروسا نہیں ہے
بحرِ تعظیم اُٹھو اے اکبر
پردا داری کرو میرے دلبر
آ رہی ہے سواری پھوپھی کی
جس کا کوئی سہارا نہیں ہے
جب جلے ہوں گے خیمے حرم کے
جب چھنی ہوں گی سر سے ردائیں
کیا بنی ہو گی سیدانیوں پر
وہ سماں دل سے جاتا نہیں ہے
جب مدینے میں جائے گی زینب
کیا بتائے گی صغریٰ کو زینب
وہ نشانِ رسن بازوؤں پر
نیل اب تک بھی چھوٹا نہیں ہے
کربلا میں جو جائے گی زینب
کیا بتائے گی بھائی کو زینب
چھٹ کے زنداں سے جو آ رہیں ہیں
اُن میں پیاری سکینہ نہیں ہے