aik roz aik sahib Manqabat aik roz aik sahibUrduManqabat
ایک روز ایک صاحبِ زلفِ دراز نے
ہم سے کہا کہ کب یہ ہنر مند کی بات ہے
آتا نہیں ہے ذکرِ رسولِ خدا تمہیں
بس فاطمہ کی بات ہے، حیدر کی بات ہے
میں نے کہا کہ ذکرِ رسولِ خدا کروں
کہنے لگے کہ ہاں یہی جوہر کی بات ہے
میں نے کیا جو دعوتِ اول کا تذکرہ
بولے ہٹاؤ اس میں تو حیدر کی بات ہے
میں نے کہا جہادِ پیمبر کروں بیان
خندق کا ذکر ہے کہیں خیبر کی بات ہے
کہنے لگے کہ اور کوئی تذکرہ کرو
اس میں تو ساف حیدرِ داور کی بات ہے
میں نے سنایا آیہ تطہیر کا نزول
بولے ہٹاؤ اِس میں تو ایک گھر کی بات ہے
میں نے سنایا آیہ تطہیر کا نزول
بولے کے گھر میں رہنے دو یہ گھر کی بات ہے
میں نے نبی کی بت شکنی کا کیا جو ذکر
بولے کہ دکھتی ہوئی رگ کو نہ چھیڑیے
پاءِ علی و دوشِ پیمبر کی بات ہے
میں نے سنایا جب شبِ ہجرت کا واقعہ
بولے کہ یہ رسول کے بستر کی بات ہے
میں نے نبی کے آخری حج کا کیا جو ذکر
بولے کہ یہ غدیر کے ممبر کی بات ہے
میں نے کہا کہ ذکرِ نبی یا اللہ کس طرح کروں
احمد کی بات بات میں حیدر کی بات ہے
بولے کہ ذکر اوروں کا آتا نہیں ہے کیوں
میں نے کہا کہ یہ تو مقدر کی بات ہے