← All lyrics

یہ بنتِ اسد جسکو تھامے کھڑی ہیں

khabar la makan ke makan

Cover image for khabar la makan ke makan
Language
Urdu
یہ بنتِ اسد جسکو تھامے کھڑی ہیں علی ہے علی ہے علی ہے علی ہے خبر لامکان کے مکان سے اڑی ہے علی ہے علی ہے علی ہے علی ہے ہے صدیوں سے اِس گھر کے چکر لگائے نہ دیکھا کسی کو کہ اندر سے آئے یہ پہلی دفا گھڑ سے نکلا کوئی ہے تحیّر ہے یہ کیا ہوا اور کیوں کر بنا کس کی خاطر یہ دیوار میں در یہ دیوار شق کس کی خاطر ہوئی ہے میں ایسوں سے کیسے اٹھوں گا خدایا اسے بھیج دے جس کی خاطر بنایا اٹھوں اس کے ہاتھوں پہ حسرت بڑی ہے بڑھے ہیں پہاڑوں پہ جان کو بچائے نبوت کو میداں میں آ کر بچائے تبھی لا فتح کی صدا رب نے دی ہے نہ دولت نہ سروت کی خاطر ہے مارا زرع تیغ خنجر نہ لوٹا تمہارا تمہیں جس نے مارا یقیناً علی ہے الہی بھگوڑوں سے اُکتا گیا ہوں میں گر گر کے میداں میں شرما گیا ہوں کہاں ہے جو ہو تو فتح لازمی ہے پیمبر نے پیغام پایا خدا سے نکاح مرتضیٰ کا ہوا فاطمہ سے نکاح خوان جس کا خداءِ جلی ہے یہ بستر پہ اپنے جو سلوا رہے تھے نبی گویا ہجرت میں بتلا رہے تھے نہ ہوں میں تو میری جگہ بس یہی ہے یہ آصفؔ خدا نے کہا میرے پیارے یہ چاہا کہ دل میں سکوں ہو تمہارے صدا جس کی بحرِ تکلم چنی ہے