main azmaton ka sawera hun, naam qasim hai Manqabat main azmaton ka sawera hun, naam qasim haiUrduManqabat
حیات چھوڑ کے شمشان لو تو بہتر ہے
حقیقتوں کو ابھی جان لو تو بہتر ہے
جو کہہ رہا ہوں اُسے مان لو تو بہتر ہے
میں کون ہوں مجھے پہچان لو تو بہتر ہے
شجاعتوں کے صحیفوں کا میں نتیجہ ہوں
یہی بہت ہے کہ عباسؑ کا بھتیجا ہوں
میں عظمتوں کا سویرا ہوں، نام قاسم ہے
متاعِ فاطمہؑ زہرا ہوں، نام قاسم ہے
شجاعتوں کی تمنا ہوں، نام قاسم ہے
قسیمِ خُلد کا پوتا ہوں، نام قاسم ہے
کتابِ جنگ میں ترمیم کرنے آیا ہوں
تمہارے جسموں کو تقسیم کرنے آیا ہوں
وہ داغ دار نسب آئینہ دکھاؤ اُسے
کہ ہارنے کی خبر تم ذرا سناؤ اُسے
کہاں ہے شام کا مرحب، بلا کے لاؤ اُسے
نہ آ رہا ہو تو مقصد مرا بتاؤ اُسے
خدا کے شیر کے جوہر دکھانے آیا ہوں
میں آج پھر درِ خیبر اٹھانے آیا ہوں
گالوں کو تیغ کا پانی پلا کے دم لوں گا
علیؑ کی یاد جہاں کو دِلا کے دم لوں گا
چراغِ فتحِ حسینیؑ جلا کے دم لوں گا
ستم گروں کو جہاں سے مٹا کے دم لوں گا
بہادری کے لیے نقشۂ کمال ہوں میں
علیؑ کا نورِ نظر ہوں، حسنؑ کا لعل ہوں میں
جمع کے دشمنِ دیں پہ نظر بڑھے قاسم
یقین سے پائے فتح و ظفر بڑھے قاسم
دکھانے تیغِ علیؑ کا ہنر بڑھے قاسم
جدھر تھا عرَضکِ شامی اُدھر بڑھے قاسم
کچھ اس طرح سے لعین کو سپردِ نار کیا
کہ ایک وار میں دو اور دو کو چار کیا
یہ وقت عرصۂ محشر سے جوڑ سکتا ہوں
حیات و موت کے دھارے کو موڑ سکتا ہوں
ہر ایک ظلم کے خیبر کو توڑ سکتا ہوں
بدن سے روح کا پانی نچوڑ سکتا ہوں
کتابِ فتح سے ونّاس لکھ کے آیا ہوں
میں اپنے شانوں پہ عباسؑ لکھ کے آیا ہوں