← All lyrics

کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی

taqaddam waladi

Cover image for taqaddam waladi
Language
Urdu
کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی بڑھے آتے ہیں جفاکار، تقدم ولدی چاروں جانب سے ہے یلغار، تقدم ولدی ہوتی ہے تیروں کی بوچهاڑ، تقدم ولدی زد پہ ہیں سب میرے انصار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی اے میرے لختِ جگر، اے میرے پیارے فرزند ہیں یہ نو لاکھ تو کیا، عزم تو ہے اپنا بلند آگے آگے صفِ اول کے رہے اپنا سمند میرے اصحاب کو پہنچے نہ کہیں کوئی گزند تیر آتے ہیں لگاتار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی وقت یہ وه ہے کہ تلوار اٹھالیں ہم لوگ دینِ حق کو کسی صورت سے بچالیں ہم لوگ کیوں کسی اور پہ اس بار کو ڈالیں ہم لوگ کیوں نہ یہ معرکہ خود آپ سنبھالیں ہم لوگ کھینچ کر نیام سے تلوار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی دین نانا کا مٹے اور نواسہ سہ لے یہ نہ ہوگا کبھی ہم سے کوئی کچھ بھی کہہ لے خون بہتا ہے تو ہم لوگوں کا اس پر بہہ لے بھیجتا جنگ پہ عابدؑ کو میں تم سے پہلے مگر عابدؑ تو ہیں بیمار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی بھائی عباسؑ سنبھالے رہیں لشکر کا نظام قاسم و عون و محمد رہیں نزدیکِ خیام تاکہ اس سمت کا رخ کر نہ سکے لشکرِ شام اور تم بہرِ وغا آگے بڑھو لے کے حسام تیرا اللہ مددگار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی ہم کو تاریخ بدل دینی ہے دشت و در کی پڑے آئندہ نظر جس پہ زمانے بھر کی گر ضرورت ہو تو بازی بھی لگا دو سر کی آخری جنگ سمجھ لو اِسے اپنے گھر کی جانے پھر کب کھنچے تلوار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی مجھ سے یہ چاہتے ہیں بدر و احد کا بدلہ میرے اسلاف کی ہر جد و جہد کا بدلہ دینِ اسلام کی نصرت کا مدد کا بدلہ باپ سے تیرے یہ لیں گے تیرے جد کا بدلہ ہم ہیں اِس کے لئے تیار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی کہیں ایسا نہ ہو زینبؑ کو خبر ہو جائے اور طلب عون و محمد کی اُدھر ہو جائے تاروں کو اذنِ سفر قبلِ قمر ہو جائے میری ترتیب ہی سب زیر و زبر ہو جائے ہوسکے ہم سے نہ انکار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی کہیں ایسا نہ ہو عباسِ علی ؑ بطلِ جلیل اس طرح دیکھ کے بربادئ گلزارِ خلیلؑ تم سے پہلے ہی وہ کر جائیں وَغا میں تعجیل کر کے قاسمؑ کے حوالے علمِ فوجِ قلیل خود بڑھیں تول کے تلوار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی امّ لیلی درِ خیمہ سے کہیں دیکھ نہ لے رُخ تمہارا ہے سوئے فوجِ لعیں دیکھ نہ لے ابر میں جاتے ہوئے ماہِ مبیں دیکھ نہ لے شیر کو نیزوں کے جنگل کے قریں دیکھ نہ لے پھر تو جانا بھی ہے دشوار، تقدم ولدی کربلا ہو چکی تیار، تقدم ولدی