← All lyrics

حسینؑ الشہید الشہید الحسینؑ

hussain al ghareeb

Cover image for hussain al ghareeb
Language
Urdu
حسینؑ الشہید الشہید الحسینؑ حسینؑ الغریب الغریب الحسینؑ کیا جشن برپا یوں اہلِ ہوس نے شہیدوں كے لاشوں پہ ڈنکے بجائے جلا ڈالے آلِ محمدؐ كے خیمے سكینہؑ كے منہ پر تماچے لگائے جو بیمار تھا اس کا بستر نہ چھوڑا نبی زادیوں پر بھی درّے لگائے دہائی د ہائی خدا یا دہائی یہ دشت ِبلا میں ہے کیسی تباہی بہایا ہے کس نے یہ خونِ محمدؑ قیامت یہ ڈھائی ہے کس نے الہی جوانوں بزرگوں کو مارا گیا ہے شہیدوں میں شامل ہے ننھا سپاہی تڑپ کر وہ چلائی شبیرؑ بیٹا لہو میں نہائے ہو سر بھی جدا ہے تبر کس نے مارے ہیں سارے بدن پر یہ تیروں پہ کس نے جنازہ رکھا ہے کہاں ہے میرا لعل عباسؑ بولو میں پوچھونگی اس سے یہ کیسے ہوا ہے اٹھی اپنے مرقد سے بنتِ محمدؑ سیاہ شب کی چادر میں چہرہ چھپا کر گئی کربلا میں تو اس نے یہ دیکھا ہے بو سیدہ کرتے میں اِک لاشِ بے سر بدن سارا تیروں سے چھلنی پڑا ہے لہو میں ہے ڈوبا ہوا سارا پیکر ادھر درد و غم کی ستائی تھی زینبؑ جو وحشت کے جنگل میں حیدرؑ بنی تھی کبھی خاک اڑاتی کبھی اشک پیتی جو کنبے کے پہرے پہ تنہا کھڑی تھی سکینہؑ کے سقا کو آواز دیکر غم ِشاہ دین میں بکا کر رہی تھی صدا سنکے زہراؑ کی تھرائے غازیؑ جدا تن سے سر تھا تو شانے کٹے تھے غم و یاس و حسرت میں مجروح و مضطر کہیں کیا کہ دریا کنارے پڑے تھے سوئے القمہ اب جو بی بیؑ نے دیکھا وفاؤں کے ساحل پہ جھنڈے گڑے تھے کبھی دل میں دیتی وہ ماں کو صدائیں کبھی روکے کہتی کہ بابا کہاں ہو شہیدوں کا نوحہ تھا اس کی زبان پر ابدؔ کس طرح اس کے غم کا بیاں ہو ہمیں بھی سعادت ہو نصرت کی حاصل خدارا ظہور امامِ زماں ہو گزارش ہے آقا ہماری یہی ہم کو روزے پہ مولا بلا لیجئے ہم کو زوار مولا بنا لیجئے ہم کو دامن میں مولا چھپا لیجئے گرفتارِ جَور و ستم ہم ہوئے مصیبت سے ہم کو بچا لیجئے