Basta — Page 27

Original book page
Original scan of Basta page 27

Urdu text

“بستہ” اور صاحبِ بستہ کے لیے چند رباعیات (حضرت راغب مرادآبادی کے منظوم تاثرات / عزت افزائی) دیباچۂ حق و حق بیانی کہیے منظوم دلوں کی ترجمانی کہیے سید جعفر نے جو دیا ہے بستہ اب اس کو کلیدِ سوزخوانی کہیے “بستہ” پڑھتے پہ جو کر بستہ ہے وہ مومن جانباز ہے دل خستہ ہے جنت کی نوید سید جعفر کے لیے اللہ کا دیا مصرع برجستہ ہے پھولوں کا ہے سوز و درد کے گلستہ ہوجائیں گے تازہ دم، پڑھیں دل خستہ “محفوظ” ہیں جس میں سوزخوانی کے رموز سید جعفر کا ہے یہی وہ “بستہ” تحفہ ہے حسین کا عزاداروں کو بخشے گا شفا یہ درد کے ماروں کو “بستہ” کے مطالعے سے غافل نہ رہیں صحت یہ عطا کرے گا بیماروں کو (بشکریہ شاعر اہل بیت ذوالفقار حسین نقوی صاحب)