Basta — Page 29

Urdu text
کچھ اپنی سوزخوانی اور اس “بستہ” کے بارے میں
سید سبط جعفر زیدی
الحمد للہ برصغیر میں سوزخوانی کیلئے خاصا مواد مختلف طبقوں میں بکھرا موجود رہا ہے اور بھارت کے مختلف شہروں کے علاوہ اردو ادب و عزاداری کے پاکستانی مراکز کراچی اور لاہور سے متعدد جرائد اور بیاضیں مختلف ناموں سے شائع ہوتی رہی ہیں، اب بھی ہو رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔ اس اعتبار سے یہ کوئی پہلا کام ہے، نہ ہی آخری۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مجامع اور بیاضوں کی موجودگی میں اس نئی کتاب “بستہ” کی ضرورت کیا تھی؟
بات یہ ہے کہ کلاسیکی موسیقی کی طرح سوزخوانی کا المیہ بھی یہی ہے کہ جو لوگ اس کی عملی واقفیت و مہارت رکھتے ہیں وہ آگے تعلیم و تصنیف کی قدرت نہیں رکھتے اور جو اس علمی و فنی طور پر تصنیف و تالیف کرسکتے ہیں وہ اس کی عملی مظاہرہ کی استعداد نہیں رکھتے، اور جن معدودے چند افراد کے پاس یہ دونوں صلاحیتیں موجود ہیں ان کی صحت و مصروفیات اور ترجیحات انہیں ان دونوں کاموں کی مہلت و فرصت نہیں دیتیں، اور پھر اسے باقاعدہ طور پر سکھانے اور آگے بڑھانے کا کام بھی کارِ دارد تھا۔
یہ کام انجمن سوزخوانان کراچی کے تحت زیادہ بہتر طور پر ہو سکتا تھا، جس کا میں خود بھی ۱۹۸۰ء سے رکن اور پھر عہدہ دار بھی رہا۔ اور اپنی خواہش اور کوشش کے باوجود “بوجوہ” یہ کام وہاں نہ کر سکا؟!
محمد و آلِ محمد معصومین کے فضل و کرم سے مجھے قدرت نے سیکھے سمجھے محفوظ کرنے، برتنے اور آگے بڑھانے سکھانے کی استعداد و مہلت اور فرصت عطا کی، یوں میں نے عزاداری و سوزخوانی سے دلچسپی رکھنے والے بزرگوں، دانشوروں، عزاداروں اور اپنے بہی خواہوں کے علاوہ اپنے سوزخواں ساتھیوں اور بازوؤں کے تعاون سے ۱۹۸۸ء میں ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کی بنیاد ڈالی تا کہ اس تربیت گاہ (نرسری) سے انجمن سوزخوانان کراچی اور قوم کو باصلاحیت نوجوان سوزخواں فراہم کئے جا سکیں۔
یوں تو میں اسکول ایجوکیشن ہی کے زمانے سے مختلف حیثیتوں میں ریڈیو ٹی وی سے وابستہ تھا، مگر بطور سوزخواں میرے بچپن کے دوست شاعرِ اہل بیت ریحان اعظمی مجھے ۱۹۸۵ء