Basta — Page 30

Urdu text
میں پی ٹی وی لے گئے اور اسی سال میرا پہلا آڈیو کیسٹ بھی کوششوں سے جاری ہوا۔ شاید ریکارڈنگ کمپنی (SRC) کی، ایم آئی (EMI)، جعفری کیسٹ (AVT)، پنجتنی کیسٹ، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، رضوی کیسٹ، باب العلم کیسٹ لائبریری اور زیدی پروڈکشن، عزت فاؤنڈیشن، ترابی کیسٹ لائبریری، پیام و پیغام کے اشتراک و تعاون سے تقریباً پچاس آڈیو ویڈیو کیسٹ اور کئی [غیر واضح] سن ۲۰۰۰ء تک منظرِ عام پر آ چکے تھے اور ہر سال ریڈیو پی ٹی وی اور دیگر ملکی و غیر ملکی ذرائعِ ابلاغ سے بھی باقاعدگی سے سوزخوانی نشر ہوتی رہی۔ نیز پانچ آڈیو کیسٹ کا سیٹ “نصابِ سوزخوانی” کے نام سے محرم الحرام ۱۴۲۱ھ میں جاری کیا جا چکا ہے۔ “زبانِ شاعر” کے عنوان سے حمد و نعت و مناقب اور سلام کے کیسٹ اس کے علاوہ ہیں۔
جب کہ محترم مرزا زاہد کی تحریک پر میرا پہلا تحقیقی مضمون “سوزخوانی” روزنامہ جنگ کراچی کے ویک میگزین کے آخری صفحے اور بقیہ نصف اندرونی صفحہ پر ۱۹۸۸ء میں شائع ہوا، جس کے بعد نہ صرف سوزخوانی پر متعدد تحقیقی سلسلہ وار مضامین روزنامہ جنگ میں شائع ہوتے رہے بلکہ حسنِ قرأت، نعت خوانی، قوالی سماع اور نوحہ خوانی پر بھی مفصل سلسلہ وار مضامین روزنامہ جنگ اور پھر اخبار جہاں، نوائے وقت، پبلک، امن، حریت، قومی اخبار میگزین اور دیگر قومی اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے۔ بعد میں اس سلسلے کو میں نے “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” کا نام دیا اور اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا۔
بعض سوزخوانوں پر تو اس سے پہلے بھی چھوٹے مضامین لکھے جا چکے تھے مگر سوزخوانی اور پھر سوزخوانوں کے موضوع پر باقاعدہ طور پر پہلی علمی، تحقیقی و تنقیدی کوشش جو پہلے روزنامہ جنگ کراچی اور پھر کتابی شکل میں ۱۹۹۵ء میں منظرِ عام پر آئی، جس کی باقاعدہ رونمائی و تقریبِ اجرا ہال پرل کانٹی نینٹل کراچی میں سرفراز احمد صاحب، جاوید رضا نقوی صاحب اور دیگر احباب کے تعاون سے منعقد ہوئی۔
جس کے بعد مجھ ناچیز کے معروف عالم و خطیب اور دانشور حضرت علامہ سید عقیل الغروی مدظلہ کی تحریک و تشویق پر، میرے ایک ممتاز دانشور و محقق ڈاکٹر سید سکندر آغا صاحب نے اپنا تحقیقی مقالہ “سوزخوانی” مرتب کیا جو آر ریسرچ گورنمنٹ (بھارت) کے تعاون سے ۱۹۹۹ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔ بلا شبہ یہ ایک قابلِ قدر اور بڑا کام ہے لیکن اس میں سوزخوانی سے زیادہ سوزخوانوں پر مواد پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ عنقریب ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں یہ کام مزید آگے بڑھ سکے گا۔
بھارت کے نامور استاد اسد علی خان (دہلی یونیورسٹی) کی زیر نگرانی بھی سوزخوانی کے حوالے سے تحقیقی کام ہو رہا ہے جبکہ کولمبیا یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا امریکہ کی معروف اسکالر ڈاکٹر [نام جزوی طور پر غیر واضح] نے بھی موسیقی، نغمگی، ادائیگی، عزاداری اور بالخصوص سوزخوانی پر خاصا تحقیقی کام کیا ہے جس میں اس احقر (سبط جعفر) کا بھی خاصا حصہ اور تذکرہ ہے، جو ان کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
مجھے اس کی شدت سے احساس رہا ہے کہ مارکیٹ میں سوزخوانی کیلئے جو مجامع اور بیاضیں موجود ہیں وہ کتنی مستند و فعال Practical، Original & Genuine سوزخوانی کی مرتب کردہ نہیں، اور غیر متعلقہ مرتب و ناشر کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو، سوزخوانی اور سوزخواں کے کلی تقاضوں، ضروریات اور مشکلات کا خاطر