Basta — Page 31

Original book page
Original scan of Basta page 31

Urdu text

ادراک نہیں کرسکتا۔ دوسرے ان بیاضوں میں کتابت / کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی بھی بڑی ناقابلِ معافی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور ہر سوزخواں کو اتنا احساس اور سوجھ کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ یوں سادہ لوح سوزخواں ان غلطیوں اور کوتاہیوں کا شکار ہو کر اپنا اعتبار بھی کھوتے ہیں اور باشعور سامعین کی طبیعت پر بھی بار بن جاتے ہیں جس سے سوزخواں کا اعتبار اور سوزخوانی کے مقاصد مجروح ہوتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان بیاضوں میں کوئی مجموعہ بھی مکمل بیاض یا بستہ نہیں ہے، موضوع و خصوصی کے اعتبار سے بھی اور مضمون و مواد کے اعتبار سے بھی، یعنی قطعات، رباعیات، سوز، سلام، بین، مرثیے اور دیگر مقدمات و متعلقات و لوازماتِ سوزخوانی یکجا نہ تھے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ مجموعوں اور بیاضوں میں بالخصوص مرثیوں کے انتخاب میں سوزخوانی کی ضرورت اور دورانیہ کا خیال نہیں رکھا گیا۔ پندرہ سے تیس بندوں کے مرثیے پڑھنے سننے کا وقت، رواج اور موقع بلکہ اب کس میں ہے؟! جب پوری مجلس کا معیاری دورانیہ (Standard Time / Duration) ہی ایک گھنٹہ اور سوزخوانی کا دس سے بیس منٹ کے درمیان ہو تو پھر مرثیے کے پندرہ بیس بند کی گنجائش کہاں سے نکل سکتی ہے؟! اور ظاہر ہے کہ ہر سوزخواں ان پندرہ بیس بندوں میں چار پانچ مربوط بندوں کے انتخاب کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پھر ہر مرثیہ بالخصوص جدید مرثیہ سوزخواں اور سوزخوانی کے مطلب کا نہیں ہوتا کہ کہیں فکر و فلسفے کے بجائے رخصت، شہادت، بین اور تربت و پردہ پر مبنی بند پڑھنا ہوتے ہیں۔ پانچویں اور آخری بات یہ ہے کہ بعض ہستیوں کی مجالس و محافل اور مخصوصوں کا رواج پہلے نہ تھا، اس لئے بھی ان موضوعات و شخصیات پر مرثیے پہلے موجود نہ تھے۔ چنانچہ ہم نے ان نئے مواقع اور مخصوصوں کیلئے پہلے اساتذہ کا کلام ڈھونڈا، جن ہستیوں اور مخصوصوں کیلئے مناسب کلام مثل کا ان کیلئے موجود مستند و معتبر شعراء سے درخواست کر کے نیا کلام بالخصوص مرثیے کہلوائے۔ اساتذۂ متقدمین اور شعرائے آل محمدؐ، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، شاعر و سوزخواں ظہور چارچوی، داروغہ امیر محمد رضوی حیدرآبادی، بالخصوص ادارے کے سرپرست صدر شعرائے اہل بیت حضرت شاداں دہلوی کے ہم خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری ضرورت کیلئے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کیں۔ اس بستے کے حوالے سے دو کام ایسے ہیں کہ جو بعد میں کسی وقت کئے جا سکتے ہیں۔ پھر یوں ملک مقیم وہ حضرات جو اردو بول تو سکتے ہیں مگر پڑھ نہیں سکتے، ان کے لئے اس کلام کو انگریزی حروف میں تحریر کیا جا سکتا ہے (یعنی اس کلام کا Transliteration)۔ علاوہ ازیں اس کلام کی بندشیں، Scaling یعنی Notations (کمپوزیشن) بھی تحریر کی جا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص اس سے براہِ راست استفادہ تو نہیں کر سکتا، مگر جو بندشیں کیسٹ میں محفوظ ہیں ان کے علاوہ بھی اس کلام کی بندشوں کو کتاب پر منتقل و محفوظ کیا جا سکے گا۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہم نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ یہ بستہ ناقل و مجالس کیلئے ایک مکمل دستاویز ثابت ہو اور مسجد و امام بارگاہ، عزا خانہ بلکہ ہر مومن کے گھر کی ضرورت اور سوزخوانی کی ضروریات کی تکمیل کا باعث ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ “بستہ” ہر مسجد، امام بارگاہ اور عزا خانہ میں موجود ہو۔ آپ اسے حاصل کر کے اپنے مرحومین کے ایصال