Basta — Page 33

Urdu text
IRC کے متعلقین و کارکنان، رضوی کیسٹ والے اختیار امام رضوی اور آلِ طہٰ [نام جزوی طور پر غیر واضح] پرنٹرز کے تمام کارکنان، حاجی قمر عباس و برادران، حاجی سید ناصر عباس، سید حسن کاظم و سلمان جلالوی فریم اور ان کے متعلقین کے علاوہ اپنے مرحومین کیلئے خصوصی دعا کے ملتمس ہیں۔
بحیثیتِ سوزخواں ہم نے جن مجامع سے استفادہ کیا ہے یا جن کا مطالعہ کیا ان میں چند بطور خاص قابلِ ذکر ہیں، مثلاً [چند عنوانات جزوی طور پر غیر واضح]، چشمِ نم، عرفانِ غم، تحریمِ غم (جلد اول و دوم)، بلالِ محرم، شمیمِ غم، سوزِ کربلا، سوزِ غم، نوائے غم (جلد اول و دوم)، منتخب مرثیے، مقبولِ عام مرثیے، نالۂ سوزداران، منشورِ سوز مرثیہ اور مختلف شعراء کرام کے مجامع۔
اس بستے کی اشاعت کے موقع پر مجھے اپنا ایک انتہائی مخلص و جانثار، بھائیوں سے زیادہ غمگسار اور خوش ہونے والا زندہ دل جواں مرگ دوست علمدار حسین ابن عابد حسین بڑی شدت سے یاد آ رہا ہے، جو میرے ہر دکھ درد کا ساتھی اور ہر کام پر خوش ہونے، حوصلہ افزائی اور تعاون کرنے والا تھا۔ آپ سے ملتمس ہوں کہ علمدار حسین ابن عابد حسین زیدی کیلئے ایک سورۂ فاتحہ کی تلاوت اسی وقت فرما دیں۔
اس بستے میں مرحومین و موجودہ تقریباً تمام معلوم و معروف سوزخوانوں کا حوالہ / ذکر کسی نہ کسی عنوان سے موجود ہے۔ اس کے باوجود جن کے اسمائے گرامی رہ گئے ہیں ان کا اضافہ انشاءاللہ آئندہ ممکن ہے۔
والسلام / آپ کے مشوروں، تبصروں اور دعاؤں کے طالب
سید سبط جعفر زیدی
بانی: بین الاقوامی ادارۂ ترویجِ سوزخوانی
ادارہ کی کارکردگی
برصغیر کے اردو داں طبقہ میں نہ صرف ایامِ عزا بلکہ شبِ جمعہ، ہائے شہادت اور سوئم چہلم وغیرہ کے حوالے سے بھی مجالسِ ترحیم و ایصالِ ثواب کا انعقاد و اہتمام ہوتا ہے اور ہر مجلس کا آغاز سوزخوانی سے ہوتا ہے۔ یوں مجالس اور سوزخوانی کا سلسلہ تقریباً سارا سال ہی جاری رہتا ہے اور خوشی مجالس کراچی میں ہوتی ہیں، پر کتنی سے اتنے سوزخواں دستیاب نہیں ہیں اور اس شعبے میں نئے باصلاحیت رضاکاروں کی آمد نہ ہونے کے برابر تھی۔ گھریلو ورثہ میں کسی سوزخوان میں نوجوانوں کیلئے کوئی دلچسپی یا کشش نہیں تھی اور باقاعدہ فنی و تکنیکی سوزخوانی کی قدردانی نہ ہونے کے باعث بھی کئی کو کشش و دلچسپی کا یارانہ تھا۔
نہ سیکھنے والے، نہ فنی سکھانے والے۔ بے حد ضرورت تھی کہ جب باقی ماندہ دو چار صاحبانِ فن جو ادائیگی (موسیقی و گائیکی) اور عزاداری دونوں کے تقاضوں اور آداب سے واقف ہیں وہ بھی نہ رہے تو تکنیکی ورثہ کی سوزخوانی کے حقیقی خدوخال بتانے والا بھی کوئی نہ رہے گا اور یہ مقدس عزائی صنفِ ادائیگی اور فنِ سوزخوانی ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ان نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انجمن سوزخوانان کراچی کے سابق سینئر قانون و سیکریٹری نشر و اشاعت، شاعر و مصنف پروفیسر سید سبط جعفر زیدی ایڈووکیٹ نے محرم الحرام ۱۴۱۸ھ میں ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کی بنیاد رکھی، جس کے بنیادی مقاصد مندرجہ ذیل تھے:
☆ کوئی مجلسِ عزا سوزخوانی کے بغیر نہ ہو اور کوئی بانیِ مجلس کو سوزخواں کے لئے پریشانی نہ ہو۔
☆ ہر عزاخانہ اور ہر گھر کیلئے کم از کم ایک نوجوان باصلاحیت