Basta — Page 35

Urdu text
افراد شامل تھے: پروفیسر کربلائی حسین صاحب، مولانا رضی جعفر نقوی، محترم تمکین [نام جزوی طور پر غیر واضح]، پروفیسر اظہار حیدر رضوی ایڈووکیٹ، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، حضرت شاداں دہلوی، محترم مرزا زاہد، محترم ریحان اعظمی، جناب شہزاد اللہ [جزوی طور پر غیر واضح]، جناب جاوید رضا نقوی، جناب اختیار امام رضوی اور باب العلم کیسٹ لائبریری والے آفتاب و عرفان اور رضا جان۔
ادارے کے متذکرہ بالا ابتدائی مقاصد کے حصول کیلئے ادارہ کی جانب سے باقاعدہ تعارفی و تربیتی اشتہاری مہم چلائی گئی۔ قومی اخبارات و جرائد میں بھی باقاعدہ اطلاعات شائع کئے گئے اور پھر خصوصی تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔ کسی قسم کی تقویم کے مطابق ہر ماہ کے پہلے منگل کو مرکزی نشست مسجد و امام بارگاہ باب العلم، کلفٹن [مقام جزوی طور پر غیر واضح] میں ہوا کرتی تھی، جبکہ مستقل طور پر ہفتہ وار تربیتی نشستوں کا بھی انعقاد و اہتمام کیا گیا۔
ان نشستوں میں دانشورانِ نظام و علماء کرام کے علاوہ مختلف صوتی علوم و فنون کے ماہرین اور اساتذہ کو مدعو کر کے ان کی شخصیت و فنی مہارت سے استفادہ کیا گیا اور پیش مشقوں پر مشتمل نشستوں کا انتخاب سات نشستوں پر مشتمل دو ویڈیو کیسٹ پر جاری کیا گیا، جس میں [کئی نام جزوی طور پر غیر واضح]، پروفیسر محمد انصاری، آراے کیسی، پروفیسر سید جمال [نام غیر واضح] کے دانشورانہ، مولانا رضی جعفر نقوی کی محققانہ و تقریری رائے اور مشاہیر اساتذۂ فن اور اپنے شعبوں کی نمائندہ شخصیات کی ماہرانہ فنی آراء، گفتگو اور عملی مظاہرہ شامل ہے۔ مثلاً موسیقی کی بھی اور عزاداری و سوزخوانی کی شرعی حیثیت، جواز اور حدِ فاصل و خطِ امتیاز کیا ہے؟ ریاض کیسے کیا جائے؟ آواز خراب ہو جائے، گلا بیٹھ جائے تو کیا کیا جائے؟ وغیرہ۔ جن افراد نے اظہارِ خیال و عملی مظاہرہ کیا ان میں محترم استاد غلام الدین خان، استاد امیر احمد خان، استاد اسد علی خان، پروفیسر شاکر علی، محترم قاری حسن محمود، محترم الحاج خورشید احمد، محترم شمیم سرور اور محترم [نام جزوی طور پر غیر واضح] نمایاں ہیں۔
جبکہ وابستگانِ ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کے علاوہ اساتذہ کے برکات میں شامل ہیں، مثلاً [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، استاد غلام سرور خان، استاد مسعود علی خان، استاد اشتیاق علی خان، استاد واحد حسین خان، استاد پیارے خان، محترم اختر ولی، محترم عظیم اکبر، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]۔ یہ ویڈیو کیسٹ ۱۹۹۸ء میں جاری کیا گیا۔
۱۹۹۹ء میں “لافانی سوزخوانی” کے نام سے اساتذۂ متقدمین کے برکات پر مشتمل آڈیو کیسٹ کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس میں استاد واحد حسین خان، استاد مسعود علی خان، استاد اشتیاق علی خان، محترم عظیم اکبر، [متعدد نام جزوی طور پر غیر واضح] شامل ہیں۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اور اس عظیم سرمایے کی حفاظت و منتقلی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح ادارے کے بنیادی دو مقاصد، یعنی تربیتی نشستوں کا انعقاد و اہتمام اور معیاری انتخاب پر مبنی آڈیو ویڈیو کیسٹ کا اجراء و تیاری کا مرحلہ ۱۹۹۹ء تک مکمل ہوگا۔
ہمارے تیاری دو مقاصد کی تکمیل بحمد اللہ محرم الحرام ۱۴۲۱ھ میں ہوئی، یعنی “نصابِ سوزخوانی” اور “بستہ” کا اجرا۔
بانی ادارہ سید سبط جعفر نے مختلف نامور اساتذۂ فن سوز