Basta — Page 37

Original book page
Original scan of Basta page 37

Urdu text

فنِ سوزخوانی کا مختصر تعارف تکنیکی و بنیادی طور پر “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” تین ہی ہیں: حسنِ قرأت، قوالی و سماع اور سوزخوانی۔ حسنِ قرأت و قوالی پر تو متعلق اور بین الاقوامی طور پر بہت کام ہوتا رہا مگر بوجہ فنی سوزخوانی پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے فن اور اس سے وابستہ ماہرین کو بھی مسلسل نظر انداز کئے جاتے رہے۔ اس فن کے مستند و غیر مشروط اصولوں کو یکجا مرتب اور پیش کرنے کا پہلا شعوری اور باقاعدہ کام پروفیسر سید سبط جعفر نے کیا۔ تعریف “سوز” کے لفظی و لغوی معنی دکھ، درد اور جلن کے ہیں اور “خوانی” کے معنی پڑھنے، سنانے اور دہرانے کے ہیں۔ اس طرح سوزخوانی کے لغوی معنی دکھ درد کا بیان (سنائی) کے ہیں۔ اصطلاحاً اہل بیت کے فضائل و مصائب بالخصوص واقعات و مصائبِ کربلا و شام کو درد و غم میں مخصوص و حسین طریقے پر بیان کرنے (سنائے) کو سوزخوانی کہتے ہیں۔ سوزخوانی وہ باقاعدہ فنی و تکنیکی صوتی اسلامی عزائی فن ہے جس کا آغاز تقریباً تین سو سال پہلے برصغیر میں ہوا۔ باقاعدہ آغاز اگرچہ اودھ سے ہوا مگر دہلی، آگرہ، الہ آباد، حیدرآباد دکن اور یوپی کے دوسرے علاقوں نے بھی اس کے فروغ و ترویج میں نمایاں حصہ لیا۔ بعد میں کچھ اثرات پنجاب کے بھی مرتب ہوئے۔ سوزخوانی بنیادی طور پر اردو صنفِ ادائیگی ہے کہ اکثر اردو کا معیاری و مستند کلام ہی پیش کیا جاتا ہے، تا ہم اس میں عربی فارسی کا معتبر فصیح کلام بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی ترویج میں راجستھان، دکن و پنجاب کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہے، مگر بنیادی طور پر یہ یوپی والوں (اردو بولنے والوں) کا فن ہے۔ فنِ سوزخوانی کی اپنی جداگانہ اصطلاحات اور ادائیگی کے علاوہ نشست و برخاست کے مقررہ متعینہ اصول و ضوابط اور آداب ہیں۔ مثلاً ایک خاص طریقہ پر گھٹنے سامنے رکھ کر بیٹھا جاتا ہے اور تکیہ پر [جزوی متن غیر واضح] جنہیں “بستہ” کہتے ہیں۔ ہمنوا ساتھیوں کو بازو اور لیڈ / استاد کو “سوزخواں” کہتے ہیں۔ ایک سوزخواں کا آغاز کیا جاتا ہے “آمد”