Basta — Page 38

Urdu text
کہا جاتا ہے۔ اس کے اجزاءِ کلام میں قطعہ، رباعی، سوز، سلام، بین اور مرثیے شامل ہیں اور ان میں ہر ایک کی ادائیگی کا مختلف انداز ہوتا ہے۔
عام گھریلو اور خواندانی کی سوزخوانی اگرچہ تقلیدی قسم کی محض اظہارِ عقیدت اور پر ہے لیکن جن میں زیادہ فنی اہتمام نہیں کیا جاتا، تا ہم سوزخوانی کی بندش، سوزوں / مرتب کرتے وقت کلام کے مزاج و تاثر کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ معیاری و مستند کلام صحیح مخارج سمیت تلفظ و ادائیگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ فن ادائیگی کے وقت، ماحول، موقع، محل، وقت، موسم اور حاضرینِ مجلس یعنی سامعین سب ہی کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ تا ہم راگ راگنی اور سروں کا استعمال حسبِ ضرورت بہت احتیاط اور مہارت سے کیا جاتا ہے تاکہ اصل مقصد کلام و پیغام کا ابلاغ ہے، نہ کہ موسیقی کی مہارت کا اظہار۔ موسیقی و گائیکی میں محض آواز و ریاض کافی سمجھے جاتے ہیں لیکن سوزخوانی کے لئے خدا داد آواز یعنی خوش الحانی کے ساتھ ریاض اور سوزِ دل بھی درکار ہوتا ہے۔ اس میں ایک ہی کلام میں انتہائی جملے اور انتہائی اونچے سر بھی استعمال ہوتے ہیں اور ایک وقت سیدہ زہرا کا جگرناک فریاد کا بھی بھرپور اور سوزخواں استعمال ہوتا ہے۔
راگ راگنیوں اور سروں کا استعمال
سوزخوانی میں بنیادی اہمیت کلام و پیغام کی ہے کہ اصل مقصود مدعا ابلاغِ کلام ہے۔ تا ہم کلام کو مؤثر طور پر سامعین تک پہنچانے، اسے قابلِ قبول بنانے، انہیں جوش و [لفظ غیر واضح] اور [لفظ غیر واضح] ملتفت کرنے کیلئے کلام و پیغام کی موزونیت و مناسبت پر نظر رکھ کر “بندش” (طرز) موزوں / مرتب کی جاتی ہے۔ کبھی کلام کو دیکھ کر سوزوں، راگ راگنیوں اور سروں کا نہایت محدود و محتاط استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی راگ راگنیوں کے تاثر کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب کلام تلاش منتخب کیا جاتا ہے۔
چونکہ سوزخوانوں کے پیش نظر نتیجتاً کلام کا ابلاغ ہوتا ہے اس لئے سروں کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے اور نہ اہتمام و التزام کی کلام کی ابتدائی و غالب بندش کی ترتیب ہی میں نہیں بلکہ بوقتِ ادائیگی بھی بطورِ خاص ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ یعنی موقع، محل، موسم، وقت و مقام اور ماحول و سامعین کے اعتبار سے معمول اور ضروری اتار چڑھاؤ میں تبدیلی بھی کی جاتی ہے۔ تا ہم فوقیت و ترجیح کلام و پیغام ہی کو حاصل ہوتی ہے۔
اگر کلام و پیغام بیانِ فضائل پر مشتمل یعنی بہاریہ ہو تو بندش میں [الفاظ جزوی طور پر غیر واضح] شامل کر دیا جاتا ہے، اور اگر بیانِ مصائب ہو تو [جزوی متن غیر واضح] پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے بعض اوقات معروف راگ راگنیوں میں ناتوں قسم کی غیر معمولی تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں اور اس ایجاد و اختراع (ترمیم و اضافہ) یا انحراف سے راگ ادائیگی کی تنقید و معلوم اور شخصی و قانون شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یا کسی صورت / شکل سامنے آتی ہے اور شعوری و ارادی کوشش سوزخوانی میں بطور خاص کی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اساتذۂ فن سوزخوانی کی اکثر بندشوں کے تعین اور راگ راگنی کی شناخت میں ماہرین و اساتذۂ موسیقی میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک ہی بندش کے بارے میں نہ صرف راگ راگنی بلکہ بعض اوقات تو “ٹھاٹھ” کے تعین و تشخیص اور شناخت میں بھی اختلافِ رائے پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ماہر فن سوزخواں حضرات کسی راگ یا ٹھاٹھ کی غالب تاثر کو توڑ کر بندش مرتب و موزوں کرتے ہیں اور کلام و پیغام سے مطابقت نہ رکھنے والے سروں کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ بقول شاعر و ادیب و دانشور اور ماہر فن موسیقی سید