Basta — Page 39

Original book page
Original scan of Basta page 39

Urdu text

مہدی ظفر عزیز علیہ الرحمہ: ہر ذکرِ شہ تو خدا دور پاک کر پہلے نوائے غم کے گریباں کو چاک کر پہلے رہے ذرا بھی نہ آلائشِ طرب باقی سروں کو سوز کے دریا میں پاک کر پہلے تو اب آلائشِ طرب کو بالکل ہٹانے اور سروں کو سوز کے دریا میں پاک کرنے کا عمل اس قدر اہم ہے کہ جب تک فنی تقاضوں اور تکنیکی لوازمات اور مقصدیت سے بھی مکمل طور پر آگاہی نہ رکھا ہو۔ بہرحال ٹھاٹھ اور راگ راگنی میں اس شعوری و ارادی تبدیلی کے علاوہ سوزخوانی کے نقد کے پیش نظر بھی احتیاطاً اکثر سوزخواں حضرات بندشوں کی فنی و تکنیکی تعیین و تشخیص کی بحث میں نہیں پڑتے، اگرچہ تمام فنی تقاضوں اور تکنیکی لوازمات کو خوب سمجھتے اور برتتے ہیں مگر اظہار و اعلان نہیں کرتے، بلکہ کچھ پوچھیں تو باذوق عزادار اور سامعین کی ان فنی باریکیوں کا خوب خوب ادراک و احساس کر رکھتے اور ان سے مستفید و محظوظ و شاداب ہوتے ہیں۔ (بالکل اسی طرح کہ جیسے ہم اذان و حسنِ قرأت کے بارے میں راگ راگنی اور ٹھاٹھ کی بحث میں نہیں پڑتے اگرچہ یہ مقدس فنون بھی تکنیکی لوازمات سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن انہیں اپنے چاہنے اور سیکھنے والوں کے برتنے کے پیمانے اور معیارات و اصطلاحات جداگانہ ہیں۔) یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر سوزخواں کیلئے راگ راگنی کی باقاعدہ تعلیم و تربیت اور مہارت ضروری نہیں ہے۔ تا ہم علم و ادب، تاریخ و مذہب، صحیح تلفظات و مخارج اور ضروری فنی و تکنیکی آگاہی سے الگ شخصیت اور ادائیگی میں علیحدہ [جزوی متن غیر واضح] کہا جاتا ہے اور ایک مکمل سوزخواں، ایک مثالی مذہبی انسان بھی ہوتا ہے۔ تا ہم کلام کا انتخاب کرنے اور بندش موزوں کرنے والے کیلئے اس قسم کی علمی و تکنیکی مہارت ضروری ہے جو اسے کامل سوزخواں اور “استاد” بناتی ہے۔ معیاری و مستند سوزخوانی اور مکمل سوزخواں / استاد کی تعریف (فنِ سوزخوانی میں) جو سوزخواں موقع، محل اور شخصیت کی مناسبت سے ہو، کلام شاعری بھی مستند ہو اور بندش بھی اس کی مطابقت و موزونیت سے ہم آہنگ ہو، دل و دماغ گرم ہو جائے، کانوں کو بھلی لگے، مزاج میں تازگی و بالیدگی محسوس ہو، اسے سننے، پڑھنے اور دہرانے کا جی چاہے، اور ہر کس اس کے بغیر محنت و تیاری اور مشق و ریاضت کے نہ پڑھ سکے، تو وہ سوزخوانی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہو وہ معیاری و مستند سوزخوانی کہلانے کا حق رکھتی ہے۔ اگر استاد اور بازو ساری سوزخوانی اول تا آخر ایک ساتھ ہم آواز ہو کر پڑھ رہے ہیں تو استاد کی مہارت میں کوئی کمی ہے یا پھر بازو بھی اتنے ہی ماہر و اہل ہیں؟! یوں تو ہر شخص کیلئے اس کا پسندیدہ سوزخواں اور ماہرِ گر کے لئے ان کا استاد اور بانی کا سربراہ (سر / لیڈر) استاد کا درجہ رکھتا ہے، لیکن اصطلاحی اور فنی و تکنیکی طور پر استاد کہلانے کا مستحق ایسا مکمل سوزخواں ہے جو سوزخوانی کے ہر جزو (حصہ مثلاً قطعہ، رباعی، سوز، سلام، بین اور مرثیہ) کی ادائیگی کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو، مکمل خواندہ بند کر کے کلام ہو، [جزوی متن غیر واضح] راگ، آواز و موسیقی کے اتار چڑھاؤ اور بازوؤں کے ساتھ ہر وقت، ہر جگہ، کسی بھی مجلس میں سوزخوانی کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو، وہ مکمل سوزخواں ہے۔ استاد ہونے کیلئے مزید کچھ اضافی خصوصیات و صفات