Basta — Page 40

Original book page
Original scan of Basta page 40

Urdu text

(مہارتیں) درکار ہوتی ہیں، مثلاً وہ تمام علوم و مروجہ اور موجودہ مستند کتب کی سوزخوانی اور اندازِ ادائیگی پر نظر رکھتا ہو۔ خود بھی فنی ادائیگی کی کچھ نہ کچھ صلاحیت ضرور رکھتا ہو۔ عزاداری (علم و ادب و تاریخ اور تلفظات و مخارج) اور موسیقی کے باہمی تعلق و تلازم اور کلام و بندش کی مطابقت سے باخبر ہو اور خوشی کے تجربہ بندش مرتب و موزوں کر سکے، گویا تقلید و ایجاد و اختراع کی صلاحیت اور ادائیگی کی کمی قدرت و مہارت رکھتا ہو، وہی حقیقی استاد کہا سکتا ہے۔ سوزخوانی کا شرعی جواز یہ بہت دلچسپ اور حساس بحث ہے جبکہ سامع صوتی علوم و فنی سے وابستہ افراد کو پیچید رہتا ہے۔ بلکہ بعض تقدیر و سخت گیر طبقات تو حسنِ قرأت و اذان، نعت خوانی، نوحہ خوانی اور بالخصوص سماع و قوالی اور حبِ اہل بیت سے متعلق افراد کو بھی ہدفِ تنقید و ہر ملامت بناتے رہتے ہیں۔ متعلقہ حضرات نے اگر محاذی مواقف و مخالفت میں بڑی جامع بحثیں کی ہیں، جیسا کہ یہاں موقع ہے نہ ضرورت۔ (اگرچہ ہم نے بھی اپنے متعدد اخباری مضامین، مطبوعہ روزنامہ جنگ کراچی وغیرہ، کے علاوہ اپنی تحقیقی و تکنیکی کتاب “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” اور شہر آغاز “بستہ” میں اس پر مفصل بحث کی ہے) مگر ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ “حسنِ صوت و خوش الحانی، موہبِ ربانی و عطیۂ خداوندی اور معجزۂ پیغمبری ہیں۔ ساری اچھی آوازیں ‘غنا’ اور حرام نہیں ہیں بلکہ اس میں اگر اپنے کلام و پیغام اور مقصد و تاثیر اور اثرات کے پیش نظر عبادت و سعادت اور موجبِ اجر و ثواب بھی ہیں۔ خوش الحانی و حسنِ صوت اور غنا میں باقاعدہ حدِ فاصل و خطِ امتیاز موجود ہے۔ بالعموم قرأت و اذان اور نعت و نوحہ و سوزخوانی میں جو ترنم (اور حسنِ صوت و خوش الحانی) مستعمل ہے وہ قطعاً جائز اور ثواب ہے۔ سوزخوانی کا تو بھی امتیاز ہے کہ اس میں کلام بھی مستند و معیاری ہوتا ہے اور بندشیں بھی (شرعی و سماعی سے پایا بازاری اور فلمی رقصوں کا تاثر تک نہیں ہوتا)۔ سوزخوانی کی بندشیں اور اجزاء (اشعار) فنونِ لطیفہ میں گائیکی ہی وہ واحد فن ہے کہ جس میں بنیادی مواد Raw Material (یعنی خام مال) باصرہ سے اور موجود Physical & Visible نہیں ہوتا اور سر گویا ہوا میں گم ہو رہے ہیں۔ لگانے کا نام ہے۔ پھر عام گائیکی و گلکاری میں کلام کا مزاج و تاثر مخصوص و متعین، یعنی ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مثلاً خیال ہے، ٹھمری، دادرا، گیت، غزل یا قومی و ملی نغمہ وغیرہ میں بھی، بندش کی کلام حمد و نعت و منقبت یا مناجات، کلام اور قوالی وغیرہ میں بھی کلام کا مزاج و تاثر ایک ہی ہوتا ہے، یعنی زیادہ تر حزن و ترنم کی تو محکی یا روحانی قسم۔ اسی طرح نوحہ بھی بیانِ مصائب و گریہ انگیز نوعیت کا ہوتا ہے جبکہ سوزخوانی میں پڑھا جانے والا کلام مذکورہ بالا تمام مزاج و تاثرات کا حامل ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک ہی کلام میں بھی یہ سب تاثرات موجود ہوتے ہیں جبکہ ظلم و جبر اور کلام و جابر قوتوں کے خلاف احتجاج و مذمت بھی اس میں شامل ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی بندش میں ان تمام جذبات و احساسات اور ہر قسم کے مزاج و تاثرات کو ظاہر کرنے والے سروں کا اہتمام و التزام کیا جاتا ہے، جس کی ترتیب و بندش اور طرز و ادائیگی میں نہایت مہارت و چابکدستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے سوزخواں کیلئے اونچے اور نچلے سروں کی ادائیگی کی صلاحیت اور آواز و ریاض کے ساتھ سوزِ دل بھی بنیادی و لازمی صفات قرار دی گئی ہیں۔ بالعموم قطعہ، رباعی، سوز، بین اور مرثیہ کا مزاج و تاثر تو مجموعی طور پر ایک ہی سا ہوتا ہے، یعنی بہاریہ