Basta — Page 41

Original book page
Original scan of Basta page 41

Urdu text

ہوتے ہیں۔ یوں ہم سوز اور مرثیہ کو سوزخوانی کے لازمی و بنیادی اجزاء قرار دے سکتے ہیں۔ اگرچہ سلام بھی ایک اہم رکن ہے جس سے مجلس اور سوزخوانی میں رونق اور خوبصورتی آ جاتی ہے۔ تاہم بوقتِ ضرورت اسے محدود یا نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ سوز اور مرثیہ بہرحال سوزخوانی کے لازمی اجزاء ہیں جن کے بغیر سوزخوانی اور مجلس نامکمل اور تشنہ سمجھی جاتی ہے۔ رباعی / قطعہ سوزخواں سب سے پہلے بہاریہ یا عارفانہ کلام و پیغام پر مبنی رباعی / قطعہ پڑھتا ہے۔ رباعی تو ہوتی ہی چار مصرعوں پر مشتمل ہے تاہم قطعہ بھی بالعموم دو اشعار پر مبنی ہوتا ہے۔ پہلے بہاریہ و مدحیہ کلام پڑھا جاتا ہے، اس کے بعد المیہ و مدحیہ۔ عام طور پر رباعی و قطعہ اور بہاریہ و مدحیہ کلام ہی پہلے پڑھا جاتا ہے، جس کے بعد سوز کا نمبر آتا ہے۔ (رباعی اور قطعہ میں باعتبارِ ادائیگی کوئی فرق نہیں بلکہ شاعری کا تکنیکی فرق ہے۔) بالعموم اس میں بھی سوزخواں اپنے بازوؤں سے الگ تمام کلام تنہا ادا کرتا ہے اور کلام کے پیغام و مزاج کے مطابق بندش موزوں / منتخب کرتا ہے۔ سوز “سوز” دراصل مسدس / مرثیہ کا چھ مصرعوں پر مشتمل ایک بند ہوتا ہے، تاہم دو یا تین بند بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ بالعموم سوز میں بھی بازو اسے دہراتے ہیں اور سوزخواں تنہا کلام کی ادائیگی کرتا ہے۔ کلام زیادہ تر نغمگی و بیانِ مصائب پر مشتمل ہوتا ہے۔ سوزخوانی میں اسے انتہائی اہمیت اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ سوزخواں اگرچہ قطعہ، رباعی، سلام، مرثیہ سب ہی کچھ پڑھتا ہے مگر کہلاتا سوزخواں ہے اور کسی سوزخواں کو جانچنے یا چاہنے کا بنیادی پیمانہ سوز ہی ہوتا ہے۔ طرز یا گائکی و بین (الاپ) لیکن “سلام” میں مختلف و متضاد قسم کے اشعار و تاثرات شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کی شایانِ شان بندش مرتب و موزوں کرنا اور اسے اس کے استحقاق (Merit) پر ادا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ (ہمارے بستے کے تمام سلام اپنی بندش اور ادائیگی کے اعتبار سے جداگانہ و منفرد حیثیت و تاثرات کے حامل ہیں۔) اس میں سوزخواں کو کبھی اپنی آواز میں تکنیکی زیر و بم شامل کرنا پڑتا ہے تو کبھی حزن و ملال کی کیفیت، کبھی موسیقی انداز اختیار کرنا پڑتا ہے تو کہیں رزمیہ یا حماسی و احتجاجی۔ گویا ایک ہی کلام و بندش میں سارے انگ رنگ اور تاثرات کا بھرپور و مؤثر اظہار کرنا پڑتا ہے جو بھرپور فنی و تکنیکی مہارت کا متقاضی ہے۔ سوزخوانی کے اجزائے [غیر واضح] سوزخوانی مجلسِ عزا کا نقطۂ آغاز اور گریہ و الحرام کی مانند ہے۔ دوسرے مقامات میں اسے اذان و اقامت کی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم برصغیر کے اردو داں عزاداروں میں اسے لازمی و بنیادی اہمیت، مجلسِ عزا کا نقطۂ آغاز اور گریہ و الحرام کا درجہ حاصل ہے۔ یوں تو مجلسِ عزا کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید و حدیثِ کساء سے بھی کیا جاتا ہے لیکن مجلس کا باقاعدہ آغاز سوزخوانی سے ہوتا ہے۔ سوزخوانی میں رباعی، قطعہ، سوز، سلام، بین اور مرثیہ پڑھا جاتا ہے۔ تاہم ضروری نہیں ہے کہ ہر مجلس میں یہ تمام ارکان ادا کئے جائیں۔ اگر یہ تمام ارکان ادا کئے جائیں تو مکمل سوزخوانی کا معیاری دورانیہ Standard Time تقریباً آدھا گھنٹہ ہوتا ہے۔ لیکن اب چونکہ مجلس کا دورانیہ بہت محدود ہوتا جا رہا ہے تو موقع و محل کی مناسبت سے ان ارکان میں کمی کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور بالعموم ایک سوز اور مرثیہ کے چند بند پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔