Basta — Page 42

Urdu text
سلام / بین
بعض کلام و شاعری اور ادائیگی کے اعتبار سے سلام یا قطعہ، رباعی، سوز، مرثیہ کا نام نہیں دیا جا سکتا، لیکن چونکہ شاعری و ادائیگی کے لحاظ سے وہ تکنیکی طور پر سلام اور نوحہ سے قریب تر ہوتا ہے اور سوزخوانی کے دوران درمیان اس جگہ پڑھا جاتا ہے کہ جہاں سلام پڑھا جاتا ہے، اس لئے بھی اسے سلام کا قائم مقام یا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے، جسے ہم نے “بین” کا نام دیا ہے۔ مثلاً ہمارا پرانا اور یہ کلام:
کہیں بازو میں سسک رہی ہوں کہاں۔۔۔
بندش کے اعتبار سے آپ اسے سوزخوانوں کا نوحہ یا نوحہ خوانوں کی سوزخوانی قرار دے سکتے ہیں۔
مرثیہ سے پہلے سلام کا نمبر آتا ہے لیکن چونکہ فضائل و مصائب دونوں ہی ہوتے ہیں اس لئے اس کی بندش میں دونوں اندازِ ادائیگی، یعنی اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ بندش ایسی ہو جو فضائل و مصائب، مدحیہ، بہاریہ والے ہر طرح کی ادائیگی کا حق ادا کر سکے۔ اس میں حسبِ موقع چار سے دس اشعار تک پڑھے جاتے ہیں۔ اس میں کچھ کلام مثلاً مصرعِ اولیٰ کا پہلا جزو یا پورا مصرعہ اس کا حصہ سوزخواں تنہا ادا کرتا ہے، قافیہ بھی بازو ساتھ بولتے ہیں، یعنی مصرعِ اول اور ہم آواز ہوتے ہیں۔
مثلاً کلام کا آغاز یعنی مطلع کا پہلا مصرعہ یا اس کا ابتدائی حصہ سوزخواں تنہا پڑھتا ہے۔ اسی طرح ہر شعر کا پہلا مصرعہ یا اس کا ابتدائی حصہ سوزخواں تنہا ادا کرتا ہے، پھر تمام بازو ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہ بڑا بھرپور اور مؤثر جزو / رکن ہوتا ہے جس سے مجلس اور سوزخوانی میں بڑی رونق آ جاتی ہے۔ تاہم وقت کی کمی کے پیشِ نظر اسے نظر انداز یا مختصر و محدود کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات مرثیہ کی بجائے بین یا سلام کے پہلے ہی اشعار پر بھی سوزخوانی ختم کر دی جاتی ہے اور مرثیہ کی نوبت و کیفیت نہیں ہو جاتی ہے۔
مرثیہ
سوز کے بعد اسے بنیادی اہمیت اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ قطعہ، رباعی، سلام حتیٰ کہ سوز بھی نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر مرثیہ کے بغیر بالعموم مجلس اور سوزخوانی نامکمل اور تشنہ رہ جاتی ہے۔ خواہ تین چار بند ہی پڑھے جائیں مگر حسبِ ضرورت، موقع و محل کی مناسبت سے مرثیہ پڑھنا ضرور چاہئے۔ مرثیے سے قبل سوزخواں اپنی فنی مہارت اور تکنیکی ریاض و ریاضت اور تیاری و استادی کا مظاہرہ کر چکا ہوتا ہے اور مرثیہ میں فنی صلاحیت و استعداد کی بجائے صرف پُرسوز مقصد ہوتا ہے۔
مجلس کی شخصیت یا موضوع کی موزونیت و مناسبت کے مطابق تین سے دس بند تک ادا کئے جاتے ہیں اور اصل مقصد لعنت پر [غیر واضح] اور گریہ و بکا ہوتا ہے، جسے کامل مجلس قرار دیا جاتا ہے۔ ایکس سوزخواں اور تمام بازو بھرپور طور پر ہم آواز ہو کر زور و مؤثر انداز اور بلند آہنگ میں کلام کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس صرف کلام شروع کرنے کیلئے چند سیکنڈز کی حد تک [غیر واضح] ہوتی ہے، مگر بعض بزرگوں کے اساتذہ مرثیہ میں بازوؤں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کچھ سے آہ اور کچھ سے کلام کی ادائیگی کا کام لیتے ہیں۔ تاہم بالعموم مرثیہ میں آج کا رواج نہیں ہے اور ساری توجہ کلام کی ادائیگی، بیانِ مصائب اور تربیت پر مرکوز ہوتی ہے۔
بعض مقامات اور گھرانوں میں سوزخوانی اور مرثیہ خوانی اپنی ادائیگی کی وجہ سے فنی و تکنیکی طور پر دو مختلف چیزیں تصور کی جاتی ہیں۔ سوزخواں و مرثیہ خواں کے فرق کو ادھورا ہونے والے جو [غیر واضح] کہتے ہیں۔ یہاں “سر” کے ساتھ پڑھنے والوں کو سوزخواں کہا جاتا ہے مگر یہ سکہ بند بحث ہے۔