Basta — Page 43

Original book page
Original scan of Basta page 43

Urdu text

ان اجزاء / اصنافِ سوزخوانی کے عملی مظاہرے کے لئے نصابِ سوزخوانی ملاحظہ فرمائیں۔ انتخابِ کلام سوزخوانی میں ہمیشہ مستند و معیاری کلام پڑھا جاتا ہے اور ضعیف، عامیانہ یا مناثرہ انداز سے پرہیز برتا جاتا ہے۔ انتخابِ کلام اور بندش کی ترتیب میں بڑی احتیاط اور اہتمام سے کام لیا جاتا ہے۔ جدید مرثیے اور مسدس میں مثلاً اور پُرسوز کم ہوتا ہے اور فکر و فلسفہ زیادہ، اس لئے بالعموم جدید شعراء کی بجائے قدیم اساتذہ کے کلام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تاہم بعض جدید شعراء نے بھی سوزخوانی اور سوزخوانوں کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہادت، بین اور پردہ پر مبنی کلام بھی کہا ہے جو سوزخوانی میں پڑھا جاتا ہے۔ ایسا کچھ کلام آپ کو زیرِ نظر “بستہ” میں بھی ملے گا۔ اصطلاحاتِ سوزخوانی صوتی علوم و فنونِ اسلامی میں قرأت و قوالی اور بالخصوص عزائی فنون میں صرف سوزخوانی ہی وہ شعبہ / صنف ہے جسے باقاعدہ علم و فن کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی مختلف اصناف / اجزاء اور ارکان ہیں، ادائیگی کے اعتبار سے علیحدہ و جداگانہ، منفرد و مخصوص گھرانے اور خاندان ہیں جنہیں اصطلاحاً “بستے / [غیر واضح]” کہا جاتا ہے۔ عزاداری کی تمام اصناف و ادائیگی میں باقاعدہ فن کا درجہ صرف سوزخوانی کو حاصل ہے۔ اس کی اپنی اصطلاحات بھی جداگانہ اور مختص ہیں۔ مثلاً: سوزخواں چوکی یا مسند پر دو زانو بیٹھتا ہے اور اس کے آگے تکیہ رکھا ہوتا ہے جو بالعموم سیاہ غلاف اور مقدس اسماء، رباعی یا شعر وغیرہ سے مزین و منقش ہوتا ہے۔ استاد (لیڈر)، جسے سوزخواں یا “سر” کہتے ہیں، درمیان میں اور ہمنوا / ساتھی دائیں بائیں اور دو سے زیادہ ہوں تو عقب میں بیٹھتے ہیں، جنہیں “بازو” کہا جاتا ہے۔ ایکس کلام کی ڈائری کو ریاض کی بجائے “بستہ” کہا جاتا ہے۔ اور یہی اصطلاح سوزخوانی کے دبستان (گھرانے) کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ سوزخوانی میں دھن، کمپوزیشن، طرز کیلئے جو اصطلاح استعمال ہوتی ہے اسے “بندش” کہتے ہیں۔ اس احتیاط و اہتمام و التزام و استادی کی وجہ سے بھی اسے جداگانہ، مختلف و ممتاز اور شخصی مقدس علم و فن کا درجہ حاصل ہے، لیکن یہ امتیاز و شرف اور انفرادی حیثیت عام گھریلو اور زمانی سوزخوانی کی نہیں، صرف قدیم روایتی تکنیکی فنی درجہ سوزخوانی کی ہے۔ سوزخوانی کیلئے ضروری لوازمات اور چند امتیازات گائیکی موسیقی سے شاذ و ناخود ہونے کے باوجود اپنے تقدس، مقاصد اور ادائیگی کے اعتبار سے بھی سوزخوانی ایک منفرد و ممتاز و شخصی مقدس اور مختلف و مشکل علم و فن ہے۔ سوزخواں کیلئے خداداد صلاحیت و حیثیتِ آواز یعنی “خوش الحانی” اور خوش گلو ہونے کے علاوہ مناسب “مشق و ریاض” بلکہ ریاضت بھی ضروری ہے اور محض آواز کی سوز ویت و فنی مہارت کافی نہیں ہے بلکہ “سوزِ دل” بھی ضروری ہے۔ جب تک پیغام و کلام اور مقصد و اہلبیت سے محبت یعنی ذاتی تعلق اور ادائیگی Involvement نہ ہو سوزخوانی کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ گائیکی کے کسی بھی شعبے میں بیک وقت تارک اور بین / زیر و بم وغیرہ کا استعمال نہیں کرنا پڑتا جبکہ سوزخواں کو ان سب کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور سب سے نچلا [غیر واضح] بھی استعمال کرنا پڑتا ہے اور سب سے اونچا سُر بھی۔ کلام و پیغام کے مزاج و تاثر اور مقصدیت کو ملحوظ رکھ کر ہی ادائیگی اور سوزخوانی کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور سروں کا انتخاب و استعمال نہایت باریکی اور احتیاط سے کیا جاتا ہے۔