Basta — Page 44

Original book page
Original scan of Basta page 44

Urdu text

احتیاط سے محض کلام و پیغام کی موزونیت و مطابقت کو ملحوظ رکھ کر کیا جاتا ہے اور بندش کے انتخاب و ترتیب میں کلام و پیغام اور الفاظ کو بنیادی و لازمی اہمیت و حیثیت حاصل ہوتی ہے اور شایانِ شان بندش مرتب و موزوں کی جاتی ہے۔ سوزخوانی کی بندش مرتب تمام اصنافِ ادائیگی و گائیکی سے مختلف و مشکل ہوتی ہے اور غیر ضروری [غیر واضح] کے کاری رنگینی اور تان بازی سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ سوزخوانی کا آغاز و ارتقا اور مختلف خاندان و دبستان (بستے) چونکہ یہ ایک غیر اطلاقی بحث ہے اور عام سوزخواں کیلئے اس کا جاننا زیادہ ضروری بھی نہیں ہے اس لئے ہم نے یہاں بھی اس سے صرفِ نظر کیا ہے۔ تاہم ہمارے مختلف مضامین و مقالات اور کتاب و مجلہ “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” میں یہ موضوعات زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ اس منتخب مجموعہ کے قارئین کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ [متن جزوی طور پر غیر واضح] کے اجراء سے پیش کی جانے والی تمام اصنافِ عزا کا طریقۂ آغاز وہی خاندانی / روایتی تھا جو مدینہ و مکہ کے موقع پر امام حسینؑ سے [نام غیر واضح] نے پیش کی تھی یا پھر [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ اس کے بعد مختلف علاقوں، بالخصوص اودھ، لکھنؤ، آگرہ، پنجاب اور دیگر مقامات میں مختلف انداز سامنے آئے۔ ان بستوں کے موجودہ مسند اور بانی بالعموم وہ لوگ ہیں جو موسیقی و عزاداری دونوں سے گہری واقفیت اور دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض سادات اور اثنا عشری (عطائی) تھے تو بعض غیر سادات اور صاحبِ میراث۔ بہرحال وہ اثنا عشری و واقف ہوں یا خاندانی اور میراثی، سب کے مقاصد اور مراتب اپنی اپنی جگہ یکساں اور مسلم ہیں۔ ان میں بعض کی وجہِ شہرت و شناخت موسیقی و گائیکی ہے اور بعض کی محض عزاداری و سوزخوانی۔ یہ ایک علیحدہ موضوع اور طویل فہرست ہے اور اس مجموعہ کیلئے غیر ضروری بھی۔ تاہم سوزخوانی کے آغاز و ارتقا اور مختلف اداروں کی تفصیلی بحث سے قطعِ نظر کرتے ہوئے چند ضروری اور بنیادی معلومات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ سوزخوانی کا آغاز و ارتقا رجب علی بیگ سرور ہوں یا محمد حسین آزاد (فسانۂ عجائب / آبِ حیات)، ڈاکٹر سید سکندر آغا (سوزخوانی) ہوں یا محمد علی خان (تذکرۂ ذاکرین)، ڈاکٹر افضل امام ہوں یا سید اسرار حسین خان (مہرستانِ اودھ)، کوثر محمد ہاشم زیدی (تاریخِ شیعہ اور لکھنؤ)، سوزخوانی کے آغاز و ارتقا کے بارے میں ان کے بیانات میں خاصا تضاد، اختلاف اور ابہام پایا جاتا ہے۔ مذکورہ حضرات کے علاوہ دیگر محققین اور تذکرہ نگاروں نے سوزخوانی کی بجائے سوزخوانوں اور مرثیہ خوانوں پر گفتگو کی ہے اور کسی قدر اپنے ذاتی خیالات و نظریات کو ترجیح دی ہے۔ محمد علی خان مولوی یادگار خان صاحب [متن غیر واضح] نے [غیر واضح] جو میر انیس لکھنؤ سے ۱۲۱۳ھ میں شائع ہوا، جنہوں نے عہد بہ عہد عزاداری اور بالخصوص سوز و مرثیہ خوانی پر روشنی ڈالی۔