Basta — Page 45

Original book page
Original scan of Basta page 45

Urdu text

روشنی ڈالی اور غیر مقالی قطب شاہ کے عہد کو سوزخوانی کا آغاز قرار دیا، یعنی تقریباً ایک ہزار برس ہجری سے سوزخوانی کا آغاز ہوا۔ ان کے بعد بارہویں صدی کے اختتام اور تیرہویں صدی کے آغاز سے سوزخوانوں کا سلسلہ تذکرہ کیا گیا اور ان سوزخوانوں کو بطورِ خاص شامل کیا گیا: چندو بی بی (سقّا بانی)، خوشحال خان، فاضل خان، حسن، سید ولی، سید غلام اصغر، کریم، حاجی محمد خان، قائم علی، مرزا عباس، وزیر علی، سید عباس، میر اسد علی، میر حسن علی، آبا خان، جمال خان، نفیس خان، حسن خان، عظمت علی، حسین علی، میر علی، سید دلدار علی، سید زین العابدین علی، سید علی علی، مدار، مونس علی، ایمن شرقی حسین، غلام علی، مرزا حیدر بیگ، محمد اللہ، مونس علی، تراب علی خان، خادم حسین، مراد علی خان، حیدر علی، شجاعت علی، یعقوب علی، مرزا علی خان، سید آفتاب حسین، سید تعشق حسین، سید باقر حسین، کالے خان، سید محمد عباس، گھرّو خان، سید میر علی، خدا حسین، عباس حسین، سید عباس حسین، سید قدرت حسین (خورد)، سید قدرت حسین (کلاں)، عباس علی خان، پچّو خان، چوہدری خان، کاظم علی، ابراہیم علی، غلام حسین، ابراہیم علی خان، سید ولایت علی، دوست علی خان، میر محمد علی، سعادت علی، حکیم میر داد علی، وزیر علی، شار حسین، سید عابد حسین، سید مصطفیٰ حسین، جہانگیر علی، حسین علی، بادر خان، سید سراج احسن، سید وحید حسین، سید محمد حسین، سید شکری حسین، سید غلام سجاد، سید منصور حسین، سید شفقت حسین، سید حیات علی، میر مومن علی، مصباح علی، کاظم علی، حاجی حسین، رضا حسین، محمد علی، اختر حسین، عباس علی وغیرہ۔ ان سوزخوانوں کے علاوہ افضل تذکرہ نگار نے ان کے بازوؤں اور شاگردوں کے نام بھی تحریر کئے ہیں۔ جو مذکورہ کتاب میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ (یہ کتاب کراچی کے معروف بزرگ فنی سوز و مرثیہ خوان اور شاعر خادم علی بازو بھائی کے پاس محفوظ ہے۔) اس کتاب میں لکھنؤ اور دیگر مقامات کی سوزخوانی اور سوزخوانوں کا تذکرہ بھی ضمنًا موجود ہے اور لکھنؤ کی سوزخوانی اور سوزخوانوں میں میر خدا علی وجیہ، مرزا اچّھے صاحب، عابد علی لکھنوی، سید سجاد حسین لکھنوی، نادر لکھنوی، محبوب صاحب لکھنوی، بندہ حسن لکھنوی اور دیگر سوزخوانوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے میر خلیق اور انیس و دبیر کے عہد کے معروف ماہر فن سوزخواں میر علی صاحب نے سب سے پہلے پانی گائیکی اور سوزخوانی کو الگ کر کے متعارف ان میں امتیاز بلکہ سوزخوانی کو انفرادیت اور کمال بھی بخشا۔ رجب علی بیگ سرور نے بھی انہی میر علی صاحب کو سوزخوانی کا اولین مستند استاد تسلیم کیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر افضل امام کے بقول میر علی کی تربیت لکھنؤ کے سوزخوان حیدری خان نے کی تھی۔ جبکہ سید اسرار حسین خان نے مہرستانِ اودھ کے تذکرہ میں ناصر خان ثانی کو میر علی حسن اور ان کے بھائی میر بندہ حسن کا استاد قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں بعض محققین میر احمد کو میر علی کا استاد اور بعض میر احمد کو میر علی کا شاگرد قرار دیتے ہیں۔ جبکہ مولانا عبدالحلیم شرر اور ہاشم زیدی کے بقول حفیظ خواجہ حسن مودودی اس فن کے موجد و بانی ہیں۔ ڈاکٹر سکندر آغا کے بقول خواجہ میر درد کے نواسے میر علی اور میر بندہ حسن ہی سوزخوانی کے اولین مستند اساتذہ ہیں۔ جن کے بعد میر مہدی حسن جنگ، بیگ استاد سید سجاد حسین، نواب [نام غیر واضح]، نواب [نام غیر واضح] مرزا نے فنی سوزخوانی کو کمال بخشا۔ جبکہ احمد علی شاہ کے دربار سے وابستہ میر [نام غیر واضح] کی تین بیٹیاں یا نواسیاں حیدری بیگم، محمدی بیگم اور سخی بیگم بھی اس فن کی ابتدائی ماہرین میں سے ہیں۔