Basta — Page 46

Original book page
Original scan of Basta page 46

Urdu text

میر علی کے بعد جن سوزخوانوں کا تذکرہ ملتا ہے ان میں میر احمد، احمد علی خان، میر زکی، سلطان علی خان، میر مہدی حسین، محمد رضا خان، سید سجاد حسین، نادر صاحب، نواب اچھے صاحب، میر زکی کے بھانجے اور شاگرد میر محمود، میر محمود کے فرزند میر علی محمد اور پھر بڑے آفتاب اور حالِ ثانی میں نواب پیارے والے [نام غیر واضح] بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر سید سکندر آغا نے حضرت علامہ سید عقیل الغروی کی تحریک و تشویق پر مرتبہ تحقیقی کتاب “سوزخوانی” میں ان سوزخوانوں کا تذکرہ کیا ہے: سید آباد جعفر نقوی و سید سبط جعفر زیدی اور ظہور چارچوی (پاکستان)، سید ابرار حسین مرحوم، سید اختر امام، اختر جہاں، اسحاق حسین رضوی، آفاق حسین پاروی، سید آل حسن مرحوم، اولاد حسین آدم مرحوم، سید امیر حیدر مرحوم، بے صاحب محترم، نواب بنے صاحب مرحوم، سید توفیق حسین، ثروت حسین، چوہدری بیگم، چنبی سرور پاشا، سید حسن نقلی، حسن جعفر مرحوم، حسن رضا، حیدر بخش، حیدر یعقوب، رضا حسین مرحوم، سید رضی مرحوم، زینب بانو، زاہد رضا مرحوم، سالار رضا علی خان مرحوم، سکندر جہاں، سید شاہ حسن شکری مرحوم، گلشن بانو، صفدر عباس نقوی، سید محمد افقر زیدی، مظفر عباس مرحوم، سید ظہیر حسین، قمر حسین جعفری، سید عباس [نام غیر واضح] مرحوم، سید عشرت باز زیدی، فتح علی خان زیدی، عرفان حسین، فیاض احسن خان، قاسم علی مرحوم، کرامت اظہر مرحوم، کوثر نقوی، آغا [نام غیر واضح]، [مزید چند نام غیر واضح]۔ [نام غیر واضح] حسین (آپ سے گزارش ہے کہ تمام مذکورہ بالا مرحومین کے لئے ایک سورۃ فاتحہ تلاوت فرما دیں)۔ بہرحال خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بھی اودھ، آگرہ، الہ آباد، دلی، امروہہ، سادات بارہہ، بجنور، سہارنپور اور دکن کے علاوہ بہار اور یوپی کے بعض دیگر علاقوں کے افراد بھی اس شعبہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ پنجاب کا طرزِ سوز و سلام اور بہاری حضرات کا طریقۂ ادائیگی ذرا مختلف ہے مگر سوزخوانی ہی کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ بات اس وقت بھارت میں سوزخوانی کی کوئی مستند و معتبر اور نمائندہ شخصیت یا سلسلہ نہیں ہے، تاہم بحمد اللہ پاکستان اور بالخصوص کراچی میں تقریباً ہر علاقہ، طبقہ، خطہ اور ہر برادری کے سوزخواں اور دبستان (بستے) موجود ہیں اور اب کچھ نوآموز و نوجوان سوزخواں بھی اس طرف مائل و متوجہ ہو رہے ہیں۔ انگلینڈ، بلتستان اور دیگر شمالی علاقوں کے علاوہ پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، گجراتی اور ہندوستانی بولنے والے حضرات کے علاوہ وادیِ ہنزہ کی برادری میں بھی ملک اور بیرونِ ملک یہ ذوق و شوق پروان چڑھ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کی خدمات و کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ تحفظ و بقا اور ترویجِ سوزخوانی کے سلسلے میں اتنے مؤثر و مؤثر اقدامات اس سے پہلے بھی نہیں کئے گئے۔ بانیان و متعلقینِ مجالس / مومنین سے گزارش بانیان و منتظمینِ مجالس کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ: ☆ ہر مجلس میں سوزخوانی / سوزخوانوں کا انتظام و اہتمام کریں۔ ☆ سوزخواں سے پہلے عہدہ نام / اعلان و اشتہار میں شامل کریں۔ ☆ مجلس مقررہ وقت پر شروع کی جائے اور حسین و سوزخوانوں کو صحیح وقت بتایا جائے۔ غلط وقت دینا یا پابندیِ وقت نہ کرنا دھوکہ دہی اور بے مہری ہے۔