Basta — Page 48

Original book page
Original scan of Basta page 48

Urdu text

بالعموم گلے کا استعمال اور کام کرنے والے ٹھنڈی (سرد)، تیز ترش (کھٹی) اور روغنی (یعنی زیادہ چکنی اور چربی والی) اشیاء سے پرہیز کرتے ہیں۔ تیز مرچ، کھٹی اشیاء اور ٹھنڈا پانی تو قطعاً استعمال نہیں کرتے، جبکہ غذا کم کھانا اور راتوں کو مسلسل جاگتے رہنے سے بھی گلے اور آواز پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تبدیلیٔ آب و ہوا، موسم کی تبدیلی، گلو و غبار و گرد، شدید سردی اور گرمی، تمباکو نوشی بھی آواز اور گلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سوزخواں کو زیادہ سے زیادہ دیر ریاض کرنے اور ایک ہی مسلسل آواز میں مختلف سروں کی آس (آکار) کی مشق بھی کرنا ضروری ہے کہ اگر آپ کا استحکام کم ہوگا تو شاید آپ پورے مصرعہ اور بندش کو ایک سانس میں ادا نہ کرسکیں اور بعض اوقات یہ ضروری ہوتا ہے اور غلط جگہ توڑ دینے سے معانی بدل یا اُلٹ جاتے ہیں۔ جیسے حضرت [نام غیر واضح] کے مشہور سلام کا مصرعہ غلط جگہ توڑ دینے سے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً: “اپنی طرف سے چھیڑ نہ، اپنی طرف سے جنگ یہ مسلکِ حسین علیہ السلام ہے!” جبکہ یہ مصرع یوں ادا کیا جانا چاہئے: “اپنی طرف سے چھیڑ نہ، اپنی طرف سے جنگ” اس طرح غلط توڑنے سے [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ یہ مصرعہ ملاحظہ فرمائیں: “بے چین تھی صغریٰ جو فراقِ پدری سے” اب اگر آہستہ ہوا اور آواز کے کنٹرول کا انداز زیرِ توجہ آئے تو گائیکی ادائیگی اور ابلاغ بڑے بڑے وقفوں اور اوقاف کے بعد یوں ہوتا ہے: بے۔۔۔ سے۔۔۔ پہ۔۔۔ سے۔۔۔ اے۔۔۔ سے۔۔۔ اے۔۔۔ پی۔۔۔ تھی۔۔۔ صغریٰ۔۔۔ جو۔۔۔ فراق۔۔۔ آتے۔۔۔ اے۔۔۔ سے۔۔۔ پدری۔۔۔ [مثال] ظاہر ہے کہ جتنا بڑا سانس ہوگا اسی تسلسل و تواتر و اتصال کے ساتھ صحیح طور پر ابلاغ ہو سکے گا۔ اور حرف الفظ بھی نہ ٹوٹنے پائے اور بندش بھی غیر ضروری طور پر منقطع یا معطل و منفصل نہیں ہونا چاہئے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ اپنے بازوؤں کا احترام کریں اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔ خود بھی عزت کریں، دوسروں سے بھی ان کی عزت کروائیں اور دورانِ مجلس منبر و تائب نہ کیا کریں۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ تمام اجزاء و عناصرِ سوزخوانی کی واقفیت و مہارت حاصل کرے، یعنی رباعی، قطعہ، سوز، بین، سلام، مرثیہ سب کچھ تنہا بھی ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور بازوؤں کو بھی بطور معاون، نائب و متبادل تیار کرے۔ بازوؤں کا اہتمام بھی آداب و لوازماتِ سوزخوانی میں سے ہے۔ بہتر ہے کہ ہر عمر بازو معترف و [متن غیر واضح] ہوں تاکہ ہر حال “سر” کا مقام و احترام بھی رباعی، قطعہ اور سوز و سلام کی حد تک ضرور رکھے۔ البتہ بغیر سوزخوانی میں رونق اور کثرت پیدا نہیں ہوتی۔ سوزخواں / سلام و نوحہ خواں کو چاہئے کہ وہ یا تو شاعر کا حوالہ دے ورنہ قطعہ ضرور پڑھے کہ یہ اس کا فریضہ اور شاعر و سامعین کا حق ہے۔ سوزخواں کیلئے ضروری ہے کہ ریاض و پرسی کا بھی اہتمام کرے۔ اگرچہ اساتذہ اور روایت پسند حضرات قطعات و رباعیات اور سوز کیلئے علیحدہ، سلام و بین کیلئے علیحدہ اور مرثیہ کیلئے علیحدہ، یعنی کم از کم تین مجالس رکھتے ہیں جنہیں سادہ تجربہ دان میں ادب و احترام اور اہتمام کے ساتھ رکھا جاتا ہے، تاہم کم از کم ایک ہی بڑی بیاض میں ان سارے کلام کو تین حصوں میں تقسیم کر کے اشارے کے ساتھ تحریر کرنا چاہئے۔