Basta — Page 49

Urdu text
اور اس مراد میں ایک سے زیادہ نقول یا نسخہ (بازوؤں کے پاس بھی) موجود و محفوظ ہونا چاہئے۔
اس ضمن میں بزرگ سوزخوانوں یا بازو میں دستیاب منابع سے بھی انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ خوشخواں کی ذاتی علم انسان سے کلام کی ادائیگی و صحتِ الفاظ، یعنی درست تلفظات، کی تصدیق و تحقیق کرالی جائے۔ اس طرح اگر کوئی غلطی بابتِ کلام یا ادائیگی میں ہوگی تو غلطی و سہو ایک فرد سے دوسرے شخص میں ہو جائے گی اور اس غلطی و واقعیت کا علم ایک ہی شخص کو ہوگا، جبکہ مجلس میں وہ غلطی ہزاروں افراد پر سوزخواں کی جہالت یا کم علمی کا اظہار کرے گی۔ مثلاً آپ نے بیشتر معروف سوزخوانوں سے سنا ہوگا جو جناب سیدہ کی شہادت سے متعلق مرثیہ “جب خلق سے وقتِ سفر فاطمہ آیا” کے ایک مصرعہ:
“غشی کو میری نظر بد سے بچانا”
درست پڑھتے رہے ہیں۔ “غشی کو میری نظر بد سے بچانا” (معاذ اللہ)۔ بلکہ اگر کسی شاعر کی بھی غلطی ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے یا کسی مستند شاعر سے اس کی اصلاح کرالینا چاہئے۔
یہ بانیِ مجلس کا فریضہ ہے کہ وہ مجلس کے اعلان و اشتہار میں سوزخواں کے نام کی بھی تشہیر کرے، پابندیٔ وقت کا خیال رکھے، سوزخواں کی پذیرائی اور آمد و رفت کا خیال رکھے۔ تاہم سوزخواں کو از خود اس قسم کا مطالبہ، تقاضہ یا توقع نہیں کرنا چاہئے کہ اصل جزا اور حقیقی اجر و ثواب انہیں بارگاہِ ایزدی و دربارِ معصومین ہی سے ملنا ہے۔ ان کے خزانے میں کمی ہے نہ دیر ہے، نہ کسی کا احسان رکھتے ہیں نہ نیکوکاروں کا اجر ضائع کرتے ہیں، بلکہ دونوں جہانوں میں خوب خوب نوازتے ہیں۔ بس ذرا صبر اور توکل و قناعت کی ضرورت ہے۔
سوزخواں کو چاہئے کہ وہ مناسب لباس، وضع قطع اور اچھی اطوار اختیار کرے کہ اس کا منصب اور مقام و مرتبہ اور مومنین کی اس کے بارے میں حسنِ عقیدت بھی اس سے مثالی کردار کی توقع رکھتی ہے۔ یعنی دنیاوی طور پر بھی اسے اچھا مسلمان اور مثالی انسان ہونا چاہئے۔ ویسے بھی سچا مسلمان ہی اچھا انسان اور اچھا فنکار ہو سکتا ہے۔
سوزخواں کو آدابِ نشست و برخاست کا بھی لحاظ چاہئے کہ تخت، تکیہ یا [لفظ غیر واضح] و مومنین کے سامنے بیٹھنے کے بعد گھٹنوں، ہاتھوں یا ہاتھ چلانا، غیر ضروری طور پر دائیں بائیں دیکھنا، اور سوزخواں کے درمیان غیر ضروری طور پر باتیں یا تبصرے کرنا، بار بار زحمہ سوالات کہنا، لوگوں کو زبردستی داد و تحسین یا گریہ و بکا کی دعوت دینا، ہنسی مذاق، [چند الفاظ غیر واضح]، سوزخوانی کی شان اور وقار کے بھی منافی ہے۔ دورانِ مجلس بازوؤں کو تأدیب یا تنبیہ و شرمندہ کرنا بھی نامناسب طرزِ عمل ہے۔
سوزخواں کو احتیاطاً مقررہ وقت سے بھی کچھ پہلے مجلس میں پہنچ جانا چاہئے کہ دو ذاکر اول ہوتا ہے۔ اس کی موجودگی سامعین اور خصوصاً بانیِ مجلس کیلئے تقویت و اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ ایصالِ ثواب کی مجلس میں اسے قرآن خوانی میں حصہ لینا چاہئے اور کوئی دوسری مجلس یا اہم مصروفیت نہ ہو تو سوزخوانی کے بعد بھی مجلس میں رہنا چاہئے۔ رخصت ناگزیر ہو تو ذاکر اور بانیِ مجلس سے اجازت و رخصت اور حضرات بھی اچھی عادت و روایت ہے۔ بعض اوقات حصولِ برکت کیلئے یا کسی وجہ سے ذاکری کی آمد میں تاخیر کے باعث بھی سوزخوانی سے پہلے حدیثِ کساء اور بعد میں سلام کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔