Basta — Page 50

Original book page
Original scan of Basta page 50

Urdu text

ایسے آڑے وقت میں مجلس کی تنظیم و ترتیب کو برقرار رکھنے کیلئے سوزخواں کو چاہئے کہ وہ حدیثِ کساء کی تلاوت اور سلام پڑھنے کی تیاری و ادائیگی رکھتا ہو تاکہ سوزخوانی کو نظر انداز نہ کرنا پڑے۔ اس کا حسنِ قرأت اور تاریخ و [لفظ غیر واضح] ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو جو سوزخواں مرثیہ تحت اللفظ، نوحہ اور زیارت پڑھانے کی بھی اضافی صلاحیت رکھتا ہو۔ بہتر ہے کہ سوزخواں ایک وقت اور پہر، یعنی نشست میں ایک ہی وعدہ کرے۔ ایسے کہ بانیانِ مجالس بعد اصرار پابندیٔ وقت کی یقین دہانی اور تاکید کرواتے ہیں مگر بوجہ عمل درآمد میں ناکام رہتے ہیں، یوں مہلت و گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات کسی یا کوئی ایک مجلس خراب یا متاثر ہوتی ہے جو بڑائی دینداری کا باعث ہوتا ہے۔ ویسے اس سلسلے میں بالعموم کراچی بانیِ مجلس کی طرف سے ہوتی ہے مگر زیادہ سوزخواں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ حسبِ موقع اپنے بازوؤں کو پیش خوانی کے طور پر اپنے سامنے یا ساتھ بٹھا کر قطعہ، رباعی، سوز، مرثیہ پڑھنے کا موقع فراہم کرے تاکہ اس کا تعارف، تربیت اور حوصلہ افزائی ہو سکے۔ بعض اوقات بانیِ مجلس یا کوئی سادہ لوح سامع کسی نامناسب کلام کی فرمائش کر دیتا ہے۔ بہتر ہے کہ ایسے موقع پر بچنے معذرت کرلی جائے، اگر قبیح و مجلس ناپسند ہی ہو تو علانیہ طور پر اس کی وضاحت کر دی جائے۔ سوزخواں کو مجلس اور خصوصی کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ ضروری نہیں ہے کہ تمام اجزاء اور حاضر پر مشتمل سوزخوانی (نصف گھنٹے پر مشتمل) لازمی طور پر کی جائے۔ ذاکر اور سوز و حال کی موزونیت و مناسبت کو ہر حال ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اس کے لئے قطعہ، رباعی، سوز یا سلام میں سے کسی رکن کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مرثیہ کا بھی انتخاب اس طرح ہو کہ ایام اختیار یا طوالت و تفصیل کی گنجائش ہو تو حسبِ ضرورت سنایا یا پھیلایا جائے اور بانیِ مجلس کو ختم کرنے کیلئے اشارہ یا پرچی کی ضرورت نہ پڑے۔ یا اگر اسے مرثیہ کے دوران ہدایت موصول ہو کہ “مولانا ابھی نہیں آئے، ذرا طول دے دیں” تو مرثیہ (سوزخوانی) خراب کرنے یا غیر ضروری طوالت و تکلف بے مزہ کرنے کی بجائے سوزخواں مرثیہ کو قرآنی اصل مقام پر ختم کر کے منبر پر سلام پڑھ کر اس وقفہ یا خلا کو پُر کرے۔ اس ضمن میں مدعو کا خیال رکھئے، یعنی خصوصی کی مناسبت سے کلام خصوصاً مرثیہ کا انتخاب کرے۔ ایسا نہ ہو کہ شہادت اور مجلس تو جناب سیدہ کی ہو اور کلام خصوصاً مرثیہ شوالِ اکبر کا پڑھا جا رہا ہو۔ بلکہ ایصالِ ثواب کی مجالس میں بھی ایام یا مرحوم کی مناسبت سے بیانِ مصائب اور مرثیہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مثلاً خاتون کی مجلس ہے تو خاتونِ جنت کا مرثیہ اور جوان کے ایصالِ ثواب کی مجلس ہے تو کربلا کے کسی جوان کا مرثیہ۔ جہاں تک ایصالِ ثواب سے متعلق مجالس کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نہایت احتیاط اور خصوصی اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے بھی کہ ایسے اجتماعات اور مجالسِ ترحیم و تعزیت میں ذاتی تعلق کے حوالے اور عزت و دنیا داری کے تحت غیر اقوام کے افراد اور کم عقیدہ غیر ملکی افراد بھی شرکت کرتے ہیں جنہیں مجالس اور اس قسم کے اجتماعات میں شرکت و سماعت اور سوزخوانی و خطابت کا کوئی تجربہ یا سابقہ نہیں ہوتا۔ ان کا مشاہدہ اور تجربہ سوز و [لفظ غیر واضح] اسی مجلس پر مبنی ہوتا ہے جس میں وہ اتفاقاً یا دعوت شریک ہو گیا ہے۔ اب اگر اسے کوئی معیاری و معقول اور شائستہ کلام و بندش سننے کو ملے گی تو اس کا تاثر خوشگوار ہوگا اور مزید تحقیق و ترغیب و تشویق کا باعث بنے گا، بصورتِ دیگر اس کے احساسات و تاثرات بھی منفی نکلیں گے۔