Basta — Page 5

Urdu text
حضرت ابو طالبؑ کی وصیت
جب جناب ابو طالبؑ کو یہ پتا چلا کہ مشرکین اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ابو طالب انتقال کر جائیں تو ہم لوگ (حضرت) محمدؐ کو قتل کریں — تو آپ نے خاندانِ بنی ہاشم کے تمام لوگوں اور دیگر لوگوں سے، اس خاندان کے لوگوں کے عہد و پیمان تھے، سب کو جمع کر کے وصیت فرمائی کہ ’’میں دنیا میں رہوں یا نہ رہوں بہر صورت رسولِ خدا کی مدد و نصرت کرتے رہنا۔‘‘ اس موقع پر آپ نے چند اشعار بھی کہے:
أُوصِي بِنَصْرِ النَّبِيِّ الْخَيْرِ مَشْهَدَهُ
عَلِيًّا ابْنِي وَعَمَّ الْخَيْرِ عَبَّاسَا
وَحَمْزَةَ الْأَسَدَ الْحَامِي حَقِيقَتَهُ
وَجَعْفَرًا أَنْ تَذُودُوا دُونَهُ النَّاسَا
وَهَاشِمًا كُلَّهَا أُوصِي بِنُصْرَتِهِ
أَنْ يَأْخُذُوا دُونَ حَرْبِ الْقَوْمِ أَمْرَاسَا
كُونُوا فِدًى لَكُمْ نَفْسِي وَمَا وَلَدَتْ
مِنْ دُونِ أَحْمَدَ عِنْدَ الرَّوْعِ أَتْرَاسَا
بِكُلِّ أَبْيَضَ مَصْقُولٍ عَوَارِضُهُ
تَخَالُهُ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ مِقْبَاسَا
(حضرت بنی اکرمؐ کی مدد و نصرت کے لئے میں (آپ سب لوگوں کو اور خاص طور سے) اپنے فرزند علیؑ اور اپنے دیگر بھائی عباس کو وصیت کرتا ہوں۔
اور شیرِ بیشۂ شجاعت جناب حمزہ کو، جن کی ہیبت سے سب ڈرتے ہیں، اور (اپنے بیٹے) جعفر کو وصیت کرتا ہوں کہ لوگوں کے مقابلے میں حضور کا پورا ساتھ دینا اور ان کی طرف سے دفاع کرنا۔
نیز بنی ہاشم کے تمام لوگوں کو وصیت کرتا ہوں کہ اگر لوگ جنگ پر کمر بستہ ہو جائیں تو تم لوگ رسولِ خدا کی مدد کرنا۔
اور جب بھی خطرات کا سامنا ہو تو تم سب لوگ حضرت محمد مصطفیؐ کے لئے سینہ سپر ہو کر ان پر اپنی جان نثار کرنا۔ میری جان اور میری اولاد سب تم پر قربان ہو۔
دشمن اگر کسی کی مدد و نصرت کے لئے دو چمکدار اور آب دار تلواریں لے کر میدان میں نکل آئے تو رات کی تاریکی میں شعاعوں کی طرح چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔)
ماخوذ از ’’دیوان ابو طالب‘‘، مترجم و مرتب: مولانا رضی جعفر نقوی، ادارۂ اصلاح، لکھنؤ، پاکستان