Basta — Page 51

Original book page
Original scan of Basta page 51

Urdu text

بندش سننے کو ملے گی تو اس کا تاثر خوشگوار ہوگا اور مزید تحقیق و ترغیب و تشویق کا باعث بنے گا، بصورتِ دیگر اس کے احساسات و تاثرات بھی منفی نکلیں گے۔ یوں بھی سوزخوانی میں اختلافی، متنازعہ یا ضعیف روایت اور غیر معیاری کلام و بندش کو فروغ حاصل نہیں ہے۔ سوزخواں نہ صرف حاضرین و سامعینِ مجلس بلکہ ان غیر حاضر و غائب سامعین پر بھی نظر رکھتا چاہئے جو آواز کے دوش پر یا کیسٹ کے توسط سے اس کے دائرۂ سماعت میں آتے ہیں۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ پڑھتے وقت پاس پر کھڑی وغیرہ رکھ لے (آف یا Silent/Vibrater پوزیشن پر موبائل فون بھی رکھا جا سکتا ہے)، نیز ڈائری یا نوٹ بک میں اپنی مجالس کے ساتھ یہ بھی ریکارڈ اور اندراج رکھے کہ اس نے کب، کہاں، کیا پڑھا؟ تا کہ جب اسی اجتماع یا خصوصی میں دوبارہ جائے تو پرانا ہی کلام نہ دہرائے۔ جو لوگ باقاعدہ اہتمام کرتے اور ریکارڈ رکھتے سنتے ہیں انہیں بڑی مایوسی ہوتی ہے جس سے سوزخواں کی شخصیت اور ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ کلام اور بندش کی پرانی ریکارڈنگ کا حافظہ اور یادداشت پر توجہ [متن جزوی طور پر غیر واضح] اور وہ بندش یعنی ادائیگی پر گم نہ ہو اور وہ بندش یعنی ادائیگی پر گم نہ ہو۔ بازوؤں کو چاہئے کہ وہ اس کو اس طرح مربوط و مسلسل رکھیں کہ دورانِ کلام سکتہ یا وقفہ اور نظم نہ ہونے پائے۔ اسی طرح مرثیہ کی روانی اور بہاؤ میں بعض اوقات اگر یا آواز کا انداز کبھی ہو پاتا اور غلط ادائیگی سے کلام اور بندش کا وزن بگڑ جائے تو آواز کو [غیر واضح] اور نتیجے کا نشہ رہتا ہے۔ چنانچہ اسی نشانی و ادائیگی کیلئے “اور” کو مد کے ساتھ اور “کل” میں جگہ “زر” و “از” کی شکل میں تحریر کرلینا چاہئے۔ اسی طرح مدحیہ اور مرثیہ کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ “قا” یا “ن” نہیں ہے جو پڑھتا ہوا دینی لکھنا چاہئے۔ اگرچہ ان لوازمات و خصوصیات کا لحاظ و اہتمام تمام اصناف و اقسامِ گائیکی و ادائیگی میں مفید و مؤثر سمجھا جاتا ہے، تاہم سوزخوانی کیلئے بے حد ضروری اور لازمی و بنیادی ہے۔ بعض اوقات کسی غلط فہمی یا بدانتظامی کی وجہ سے ایک سے زائد سوزخوانوں کو مدعو کر لیا جاتا ہے۔ یہ سوزخواں کے ظرف اور خلوص کا امتحان ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں بڑائی کی بجائے سوزخوانی کے مقررہ وقت میں کلام کو مناسب طور پر تقسیم کرلینا چاہئے۔ مثلاً پہلا سوزخواں قطعہ، رباعی، سوز اور سلام پڑھ دے اور دوسرا ایک سوز اور مرثیہ پڑھ لے، تا کہ کوئی محروم و بددعا نہ رہے۔ ایسی صورت میں پہلے پڑھنے والے کو بعد والے کا خیال رکھ کر کم کلام پڑھنا چاہئے اور بعد والے کو ذاکرِ اول کی مناسبت سے انتخابِ کلام کرنا چاہئے۔ بالعموم مصائب کے بعد فضائل کا بہاریہ کلام نہیں پڑھا جاتا بلکہ سوزخوانی میں ان باتوں کا بطور خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ریاض کیسے کیا جائے؟ یہ ایک فنی و تکنیکی سوال ہے اور عام گائیکی کے طریقوں ہی پر سوزخوانی کیلئے بھی گلا تیار کیا جا سکتا ہے اور مشق و ریاض کے تمام اصول ہی اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم سوزخوانی کا آغاز اس سے ہوتا ہے جو کسی قسم کی ہوتی ہے اور کلام کی بندش میں مسلسل سروں میں سے کسی ایک غالب سُر سے اس شروع کی جا سکتی ہے۔