Basta — Page 53

Urdu text
☆ کلونجی کے چند دانے چبا لینے اور ادرک کے رس میں شہد ملا کر چائے سے بھی گلے میں موجود بلغم کے ریشے صاف ہو جاتے ہیں۔
☆ گلے اور حلق کی صفائی کیلئے ایک یہ نسخہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک پاؤ دودھ میں دو چار دانے انجیر کے پکا لیں اور پھر اس دودھ کو پی لیا جائے۔
جبکہ اس سلسلے میں بازار میں موجود معروف اداروں کی سر [غیر واضح] دوا بھی استعمال کی جا سکتی ہیں اور ہمدرد کی سیاہیاں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ (از افادت حکیم مولانا سید باقر حسین شبیر، حکیم محمد سعید شہید، حکیم عرفان رضوی، مظلہ (معیاری دواخانہ) اور حکیم سید محمد عباس ترمذی / ڈاکٹر گلریز صحت۔)
مصافح اور مجالس کے ہدیہ اور نذرانہ کا مسئلہ؟!
ذکرِ اہلبیت کا ہر صورت ذریعہ یقیناً ذاکر کا حق ہے، بصورت اسے نہ بھی ہے ذکر کرنے بھی اس کا معاوضہ کا حصہ ہے اور ان کی بھی سماجی معاشی ذمہ داریاں اور ضروریات و خواہشیں ہیں۔ تاہم ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مدحِ اہلبیت اور خدمتِ عزا کا یہ نذرانہ، غیرہ شرعی ہونا، پیشگی طور پر طے کر لینا یا پھر اسے مشروط کرنا پسندیدہ روش نہیں ہے۔ بہتر ہے بہر صورت مجلس کے مزاج اور سامعین کا توجہ ہونا چاہئے۔
[متن جزوی طور پر غیر واضح] جبکہ نظم و ضبط کے صفتِ اول کے شاعر و ذاکر اور سوزخواں کو اول تو ہر یہ پیش ہی نہیں کیا جاتا اور اگر دیا جائے بھی تو ہزار سے زیادہ نہیں ہوتا، جبکہ اکثر نے چند رشیدیاں یا درہم و دینار کی بجائے اہلِ خانہ کے تمام زیورات اور گھر میں موجود جواہرات (تبرکات) رومال میں باندھ کر اپنے مداح و ذاکر کو عطا کئے ہیں۔
ہمارے رضاکار سوزخواں ان چیزوں کی نہ توقع کرتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں۔ وہ اپنی تمام خدمات اللہ و معصومین کی خوشنودی کیلئے پیش کرتے اور انہی سے اجر و ثواب کے طالب ہوتے ہیں۔ پھر بھی بانیانِ مجالس کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی سعادت کیلئے سنتِ امام کی پیروی کرتے ہوئے ان کی ممکن پذیرائی کریں اور اگر یہ لوگ نقد رقم یا لفافہ قبول نہیں کرتے تو تالیف یا دوسرے طریقوں پر ان کی پذیرائی، اعانت اور حوصلہ افزائی کریں، مثلاً ان میں بزرگ و نوجوانوں کی ذرا اسی روزگار کے سلسلے میں رہنمائی و معاونت وغیرہ۔
اے کاش (مختلف سطحوں پر) ایامِ عزا کے اختتام پر ہر سال مجلس و بے لوث ذاکرین و خدامِ عزا (جن میں غیر پیشہ ور ذاکرین کے علاوہ اسکاؤٹ / رضا کار وغیرہ بھی شامل ہیں) کے اعزاز میں پُر وقار تقریب کر کے تحائف، انعامات اور اعزازات سے ان کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کا اہتمام کیا جائے۔
بہرحال ہم کوشش کر رہے ہیں کہ رضاکار سوزخوانوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ قوم کو اسی طرح کے مخلص تعلیم یافتہ رضاکار ذاکرین بھی فراہم کریں۔ ہم خواندہ اور زبانی غیر ذمہ دارانہ خطابت سے کہیں بہتر یہ ہے کہ مستند علماء کرام کی تقاریر کے مجموعوں سے انتخاب کر کے پڑھ کر بھی باصلاحیت نوجوان ان تقاریر کو مجالس میں پڑھ کر سنایا کریں۔