Basta — Page 54

Original book page
Original scan of Basta page 54

Urdu text

ادارۂ ترویجِ سوزخوانی سے وابستہ سوزخوانان کے اسماء گرامی اور رابطہ کے نمبر مومنین کی سہولت کیلئے پیش کئے جاتے ہیں۔ شہر صحت و فہرست یہ رضاکار خدمتِ سوزخوانی کیلئے دستیاب ہیں۔ بانیانِ مجالس ان سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ (اس فہرست میں وہ سوزخواں بھی شامل ہیں کہ جو باقاعدہ تکنیکی طور پر نہ سہی مگر مزاجی، نظریاتی اور عملی طور پر ادارہ کے مقاصد سے قریب تر ہیں۔) ان سوزخوانوں کے علاوہ بھی بعض سوزخواں رضاکارانہ طور پر اس خدمت کی بجا آوری پر مائل ہو رہے ہیں، جن کی تفصیلات آئندہ کسی موقع پر پیش کر دی جائیں گی۔ اس فہرست میں درج رابطے کے پتے اور ٹیلیفون نمبر تبدیل ہو جانے کی صورت میں ادارہ کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر سوزخواں کا حق اور ہر ادارہ کا فرض ہے کہ وہ سوزخواں سے وعدہ لیتے وقت اپنی شناخت کرائے۔ بہتر ہے کہ اپنے ذاتی لیٹر پیڈ یا ادارہ کے لیٹر پیڈ پر باقاعدہ، باضابطہ طور پر مجلس کی دعوت دے۔ موجودہ حالات میں سیکیورٹی کے تقاضے کے نگاہ سے یہ احتیاط و التزام انتہائی ضروری ہے۔ مرکزی قومی فلاحي اداروں سے علاقائی و مقامی دفتر رابطہ و تربیت گاہِ سوزخوانی وطنِ عزیز میں سادات و مومنین کی سب سے بڑی آبادی جعفریہ کالونی [پتہ جزوی طور پر غیر واضح] کراچی مکان نمبر ۱۰۰، مرثیہ نمبر ۶۴۰ (گلی نمبر ۲ کاروانِ عون و محمد) کی بالائی منزل کو سوزخواں مالکِ مکان نے ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کو علاقائی و مقامی دفترِ رابطہ و تربیت گاہِ سوزخوانی کیلئے [غیر واضح] کیا ہے، جہاں ملک کی قدیم ترین رفاہی فلاحي “انجمن وظیفہ سادات و مومنین پاکستان رجسٹرڈ” کا مقامی دفترِ رابطہ اور شہداءِ ملت کے ورثاء کی نگہداشت و خبرگیری کرنے والے مرکز ادارہ “شہید فاؤنڈیشن پاکستان” کا بھی مقامی دفترِ رابطہ قائم ہے۔ ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کے رضاکار سوزخوانان (جمعہ و تعطیلات کے سوا) روزانہ شام چھ سے رات دس کے بیچ اس دفتر میں ان تینوں اداروں سے متعلق خدمات و معلومات کیلئے موجود رہتے ہیں۔ [رابطہ فہرست کے چند حصے اسکین میں واضح نہیں۔] گریہ یا [عنوان غیر واضح] کا مریداری؟ ایسے مجلس سے کیا مرثیہ کچھ یہ خطا بار بار مت پوچھ چھوڑ دیتا ہے ساتھ مشکل میں شیخ پر اعتبار مت پوچھ ہے نصیری کی بھی زینب حیدر دوستوں میں شمار مت پوچھ گر ہے یا لتا کا دوبیدار وقت نصرت فرار مت پوچھ جب پکاریں تجھے امیرِ زماں سر کو دامن پہ بار مت پوچھ مجلسیں مجلسیں ہیں بینِ عشق عشق کو کاروبار مت پوچھ میں ہوں محتاج غم کا تیرے ایسا پردہ دار مت پوچھ جو سزا ہو لے میں دے کچھ حشر میں شرمسار مت پوچھ (سید جعفر کی منقبت غزل سے منتخب چند اشعار)