Basta — Page 55

Original book page
Original scan of Basta page 55

Urdu text

حسنِ صوت و خوش الحانی اور غنا و موسیقی شاعر و سوزخواں پروفیسر سید سبط جعفر زیدی ایڈووکیٹ حسنِ قرأت، نعت خوانی، نوحہ خوانی اور سماع و قوالی حتیٰ کہ اذان اور صلوٰۃ و سلام کے بھی بعض انداز و اسلوبِ ادائیگی پر سادہ لوح اور انتہا پسند مذہبی طبقات کی طرف سے اعتراضات کئے جاتے رہے ہیں اور ان کی طلب و حرمت اور شرعی جواز و حیثیت کی بحث ہوتی رہی ہے اور بوجہ اکثر ذمہ دار، مشتاقان اور مجتہدین و علماءِ دین ان مباحث سے پہلو تہی کرتے ہوئے سر حاصل گفتگو اور توجیہہ و توضیح سے اجتناب کرتے رہے ہیں اور اس موضوع پر بہت کم علماء، محققین اور مجتہدین نے توجہ دی ہے۔ ظاہر ہے کہ رائج انحراف بھی کوئی منفی یا مثبت نہیں اور نہ ہی اس احساس موضوع کو زیرِ بحث لانا کر عوام الناس، عام مومنین اور خود اپنے تئیں کی غیر ضروری تنازعہ یا مسئلہ فقہی میں الجھانا چاہتا ہے۔ پھر بھی اتنا چند اہم بنیادی حقائق کی جانب سے چونکہ رزم سے متعلق اسلام اور مسلمانوں کے فنونِ لطیفہ کو جو بنیادی جوش و جذبہ ایک فطری خلوص اور پورے ترک و احتشام سے بغرض حصولِ سعادت بطور عبادت انجام دیئے جاتے ہیں، ناجائز قرار دیا جاتا رہا ہے اور سادہ لوح مومنین بھی اب قرأت و نعت و صلوٰۃ و سلام، اذان و سماع اور نوحہ خوانی و سوزخوانی کے شرعی و فقہی جواز کے بارے میں فکر و متردد ہونے لگے ہیں، تو ضرورتِ امر یہ ہے کہ ان بنیادی مظاہرِ حسنِ صوت اور خوش الحانی و نغم کی شرعی حیثیت سے پہلے عام موسیقی اور غنا کی تعریف و تعیین، حد بندی اور مقام و حیثیت کا جائزہ لیا جائے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ رائج انحراف نے اگرچہ تمام صلاحیتوں کو بُرے کار لاتے ہوئے نیک نیتی اور شرعی و دینی اعتبار کی مستقولات و معقولات شرعی سے استفادہ کے بعد ہی کوئی نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے، تاہم یہ اس کی ذاتی تحقیق اور ایک نگارش ہے جو نہ تو حرفِ آخر ہی ہے نہ دوسروں کیلئے حجت و سند۔ ہر فرد کو خود اپنی تحقیق و تجسس اور تحقیق کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے پر عمل کرے، نہ کہ میرے لکھے پر۔ موسیقی و غنا سے کیا؟ گانے بجانے کے علم اور گانے بجانے کو موسیقی کہتے ہیں۔ عربی اور