Basta — Page 56

Urdu text
خصوصاً قرآن و سنت (حدیث) میں برصغیر کی مروجہ اقسام و اصنافِ موسیقی کیلئے واضح اور متعین الفاظ نہیں ہیں۔ تمام اس قسم کے مفہوم کے لئے غنا، لہو و لعب اور قول الزور کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر لفظ مختلف مقام پر مختلف معنی و مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قول الزور کے معنی جھوٹی، بیہودہ اور لغویات کے بھی ہیں خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہوں۔ اس کی بھی نوعیت کی ہو، کیسی ساز و آواز یا لحن و ترنم اور طرزِ ادائیگی کی کوئی قید شرع یا وضاحت نہیں ہے۔ (مثال کے طور پر سورۃ الفرقان کی آیت نمبر ۷۲ ملاحظہ فرمائیں:)
وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا
اسی طرح “لہو و لعب” بھی فضول افعال اور لغو اشغال و اعمال یا بیکار باتوں کو کہتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر مختلف نوعیت کے افعال اور معاملات کو لہو و لعب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تاہم جو آیت موسیقی کی ممانعت و حرمت میں پیش کی جاتی ہے وہ سورۂ لقمان کی چھٹی آیت ہے جس میں “لَهْوَ الْحَدِيثِ” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مراد بیہودہ قصہ کہانیاں لیا گیا ہے نہ کہ لحن و نغم یا موسیقی و غنا۔ اسی طرح سورۃ الحج کی آیت نمبر ۳۰ میں ارشاد ہوا “فَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ” یعنی لغو باتوں سے بچو۔ انہیں آیات کو موسیقی و غنا کی حرمت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان پر گفتگو سے قبل ہم [متن جزوی طور پر غیر واضح] بہتر ہوگا۔
عربی و اردو میں غنا کے معنی راگ، نغمہ اور گانے کے ہیں، جبکہ “اکتساب” میں غنا کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:
“صوت المشی مع الترجيع”
لیکن ترجیع کی وضاحت و صراحت نہیں کی گئی۔ اس طرح غنا اور ترجیع کی جامع و مانع اور واضح و متعین تعریف کی بجائے گنگنی، سُری اور آواز کے گھمانے کو غنا قرار دیا جاتا ہے، لیکن حسنِ صوت اور خوش الحانی کی جائز و شرعی حدود و قیود پر بحث نہیں کی گئی، یعنی حسنِ صوت و خوش الحانی اور غنا و ترجیع کی حدِ فاصل کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ حالانکہ جس طرح حرام و حلال کے فتوے اور فیصلے اور معاملات کی جائز و ناجائز اور شرعی حیثیت سے ان کی تحقیق و تفتیش اور تحریر کیلئے ان کا کیس مشاہدہ و مطالعہ اور تجربہ و تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ مضارب و نزاکت، تجارت اور سود یا مایہ کاری و جوا (قمار بازی)، شراب اور سرکہ کی ماہیت و کیفیت اور ان کی شرعی حیثیت کا جائزہ لے کر فیصلہ و فتویٰ صادر کیا جائے۔
اسی طرح ضرورتِ امر یہ ہے کہ محققین، علامہ و مفتیانِ کرام یعنی مراجع حضرات حسنِ صوت و خوش الحانی اور غنا و موسیقی کے بارے میں عمیق تحقیق و تفتیش کر کے ان کی مختلف شکلوں اور حیثیتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ و فتویٰ صادر فرمائیں۔ یوں علم و فنِ موسیقی کا عملی مظاہرہ نہ سہی مگر اس کا علم سمجھنے جامع شرائط کیلئے لازمی قرار پاتا ہے یعنی فرضِ کفائی ہے۔ رائج انحراف کی خالص تحقیق کے مطابق غنا کی کیفیت و ماہیت اور حدود و حیثیت اور [لفظ غیر واضح] طریقہ اور تعیین و تفتیش اور توجیہ و توضیح کی باقاعدہ سنجیدہ و شعوری کوشش دانستہ یا نادانستہ نہیں کی گئی۔
بہرحال موسیقی یا گائیکی کی مذمت و ممانعت کیلئے کوئی نصِ صریح موجود نہیں ہے۔ کسی بھی آیت یا مستند حدیث سے ہر قسم کے غنا کا مطلقاً حرام ہونا ثابت نہیں ہے اور وہ جو ایک عربی مقولہ عوام میں آیت یا حدیث کے طور پر پیش کیا جاتا ہے “الغناء أشدّ من الزنا” تو یہ نہ تو آیتِ الٰہی ہے نہ ہی حدیث کی کوئی مستند و معروف حدیث ہے! اللہ عالم یہ مقولہ کب کیسے رواج پا گیا؟!