Basta — Page 57

Original book page
Original scan of Basta page 57

Urdu text

کیا واقعی ہر موسیقی / گائیکی مطلقاً حرام ہے؟! اس سوال کا جواب، فیصلہ اور فتویٰ میرا منصب ہے نہ فریضہ۔ تاہم علومِ شرعیہ کے ایک طالبِ علم اور تحقیق و مشورات و معقولات کے [لفظ غیر واضح] کے طور پر میرا مؤقف یہ ہے کہ کسی نصِ صریح سے، یعنی حکمِ واضح اور صریح آیت و حدیث سے، ہر قسم کے غنا کا مطلقاً حرام ہونا ثابت نہیں ہے اور مروجہ اقسام و اصنافِ موسیقی و گائیکی کیلئے سروں میں کوئی واضح لفظ بھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ قول الزور، لہو الحدیث اور ترجیع و غنا کی بھی باقاعدہ اور جامع و مانع منضبط تعریف اور حسنِ صوت و خوش الحانی کی حدود و تعیین نہیں کیا گیا۔ جبکہ اسلام کا کوئی واجب اور فرض اور اسی طرح گناہِ کبیرہ اور حرام عمل یا حکم ایسا نہیں ہے جو واضح اور حکم نہ ہو۔ یعنی فرض، واجب اور حرام افعال و اعمال اور اس کا واضح طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں اور ایسے احکامات جو واضح ہوں یا متشابہ ہوں وہ مندوب، مستحب اور مباح یا مکروہ وغیرہ قرار پاتے ہیں۔ یہاں تک کہ مستحب، مکروہ اور ترک و تحریمی کی بھی وضاحت و صراحت موجود ہے۔ اس اصول کے تحت گناہِ کبیرہ کوئی ایسے اعمال و افعال نہیں جس کے شرعی دلائل و شواہد یا براہین، استخراج و استنباط اور اجتہاد و استفتاء کی ضرورت پڑے۔ مثلاً شرک و کفر، فسق و فجور، جھوٹ، جوا، سود، نفاق و منافقت، خیانت و غیبت، بدکاری و قتل و فساد وغیرہ ہم کو سب واضح ہیں جبکہ غنا کیلئے نصِ صریح موجود نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر وہ قول، فعل یا شاعری جو فحش خواہشات کو ابھارے، فطری جذبات کو برانگیختہ کرے اور تحریک دے، خواہ نثر میں ہو یا نظم میں، تحریر میں ہو یا تقریر یا موسیقی میں، تحت میں ہو یا لحن و ترنم میں، بجائے خود حرام و ممنوع ہے۔ سورۃ الشعراء سمیت قرآنِ مجید کی متعدد آیات و احادیث میں نیکی مذمت و ممانعت بالصراحت موجود ہے۔ ہر وہ عمل جو انسان کی قوتِ عمل کو متاثر و مجروح کرے یا واجبات و فرائض میں خلل و رخنہ انداز ہو، حقوق اللہ، حقوق العباد یا حقوق النفس سے غافل و بے پروا کر دے، بجائے خود ممنوع یا حرام ہے۔ اس طرح اگر قرآن خوانی سے فرض نماز قضا ہو رہی ہو تو ایسی قرآن خوانی بھی ناپسندیدہ ہے۔ یہ ممکن اس وجہ سے غنا کو حرامِ مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس سے کوئی نہ کوئی فرض یا حق ساقط و ضائع ہونے کا خدشہ کے علاوہ ازیں اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس نے انسان کے کسی بھی فطری جذبہ کو یکسر نظر انداز نہیں کیا ہے، تاہم ہر انسانی فطری جذبہ کچھ حدود و قیود اور مطابق و موافقِ فطرت اصول و ضوابط کا پابند و تابع ضرور کیا ہے اور مقررہ حدود و قواعد کے ماتحت کر کے قانونی و شرعی تحفظ و مقام عطا کیا ہے۔ جنسی مثال نکاح بھی ہے اور رقص بھی۔ پھر ہر عضوِ بدن اور حس کیلئے لذت و لوازم بھی موجود ہے، چنانچہ حسنِ صوت یعنی اچھی آواز اور خوش الحانی انسان کے جذبہ و ذوقِ سماعت کی تسکین کرتی ہے جسے سروں میں بھی کہا جاتا ہے اور روح کی غذا بھی، بشرطیکہ یہ لطیف اور پاک و پاکیزہ ہو۔ یہاں اس امر کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ لذتین اور نغمی انسان میں محض عقل و علم ہی کا فرق اور امتیاز نہیں ہوتا بلکہ جمالیاتی ذوق اور حسِ لطیف کا بھی ہوتا ہے اور عام آدمی کی بہ نسبت ذہین و حساس آدمی قانونِ لطیف سے زیادہ متاثر و محظوظ ہوتا ہے۔ بہرحال خوش الحانی و حسنِ صوت عطیۂ خداوندی اور معجزۂ پیغمبری ہے، البتہ اس کی حدود و قیود اور کلام (نفسِ مضمون اور مواد و متن) پر بحث آئندہ میں ہے۔ بہرحال موجود ہے اور حضرت داؤد کا معجزہ اور وجہِ شہرت ہی ان کا حسن و ترنم اور مناظر کے گیت [جاری]۔