Basta — Page 58

Urdu text
ہیں جو آج بھی یہود و نصاریٰ میں مذہبی تقدس و تحفظ کے ساتھ کی تقریباً ترانیم کے باد وجود مروج ہیں۔ البتہ جدید موسیقی اور بے دین شاعری و گائیکی کو جو دینی و معاشرتی اقدار سے متصادم ہیں قبول اور معقول نہیں قرار دیا جا سکتا۔
حرمتِ غنا کے ثبوت میں پیش کی جانے والی آیاتِ قرآنی اور دوسرے دلائل کا تجزیہ
غنا کی مذمت و ممانعت میں کچھ احادیث اور روایات پیش کی جاتی ہیں جن کے مطابق گانا بجانا، لہو و لعب، قبیح اوقات اور حقوق و فرائض سے غفلت، فسق و فجور اور گناہوں میں مبتلا ہو جانے کے خدشات کے ساتھ اجتنابات و مظاہرِ موسیقی کے مضر اثرات اور مکروہ و مشتمل برکات کی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جو ایکس ملعون ہوتا ہے وہ ازخود رد و ازخود رفتہ ہو جاتا ہے۔ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد اور حقوق النفس سب ہی متاثر ہوتے ہیں کہ یہ شوق ہر قسم کی برائی چاہتا ہے اور آدمی ہر وقت امر و نہی میں مستغرق ہو سکتا ہے۔ اس لئے بھی احتیاط، معصومین و مجتہدین نے اس کے متعلقات و مضر اثرات سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ٹیلیویژن، ڈش انٹینا یا وی سی آر بنیادی طور پر کلیتاً حرامِ مطلوب نہیں ہیں کہ انہیں مفید و دینی، تعلیمی و تحریکی اور اصلاحی مقاصد اور مثبت تعمیری تقریبی سرگرمیوں کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن مشاہدہ و تجربہ یہی ہے کہ ان لغویات کی فراوانی و دستیابی پر ان کا مثبت و تعمیری استعمال اور نیکی فوائد تو محدود اور جزوی اور نقصانات لامحدود ہوتے ہیں۔
چنانچہ علماء کرام ان کی حوصلہ شکنی اور متشدد مذہبی طبقات ضرور مخالفت و مذمت کرتے ہیں، جبکہ یہ آلات و ایجادات بجائے خود حرامِ مطلق نہیں ہیں۔ ان کا استعمال اور حدود و دائرۂ کار کلی بحث ہے۔ بس یہی صورتِ حال موسیقی میں بھی ہے۔
یہ آلات یا علم و فن بجائے خود کلیتاً حرامِ مطلق نہیں بلکہ اس کا استعمال و مظاہرہ خطرناک ہے جس میں خرابی کے خدشات بطورِ غالب و احتمالات و تجربات زیادہ ہی ہیں۔
جس قسم کی شیطانی، ہیجان خیز موسیقی و گائیکی اور کلام، راگ و رنگ، ڈسکو اور پاپ کے نام پر آج کل فروغ پا رہا ہے، ایکس فسق و فجور اور انتشار و انحراف زیادہ سے انسان کی تعلیم و تہذیب اور اعصاب کیلئے یا کی حیثیت انسانی فطری جذبہ حسِ لطیف اور ذوقِ سماعت کی تسکین کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم برصغیر کی قدیم کلاسیکی موسیقی و گائیکی اور روحانی، صوفیانہ و عارفانہ موسیقی و شاعری میں یقیناً روح اور اعصاب کی تسکین و طمانیت کا بہت کچھ سامان موجود ہے، جس میں سماع (شمول چہار بیت و قوالی) بھی شامل ہے۔ جبکہ حسنِ قرأت و نعت خوانی، صلوٰۃ و سلام، منقبت خوانی، سوزخوانی، نوحہ خوانی وغیرہ اصنافِ مذہبی و دینی اسلامی صورانی فنونِ لطیفہ اور مدح و ثنا و دعا ہیں، یعنی عبادت و سعادت ہیں۔ البتہ کلام کے تقدس و پیغام کے مزاج و مقصدیت کے پیشِ نظر کلام کی شایانِ شان ادائیگی کا اہتمام و التزام، آگے تقدس و اہمیت کے زیرِ اثر رکھنے کیلئے ضروری ہے۔
اب ہم ان آیات کو پیش کریں گے جو حرمتِ غنا کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں بعض محققین اور علماء نے موسیقی کے رواجی و سماجی اور طبی و نفسی نقصانات و مضر اثرات کی نشاندہی کی ہے جو بعض درست بھی ہیں، لیکن وہ محض طبی نقصانات ہیں نہ کہ شرعی [لفظ غیر واضح]۔ علاوہ ازیں ہر قسم کی موسیقی ہر آدمی کو ہمیشہ نقصان نہیں پہنچاتی۔ بعض افراد اور بعض حالات میں مخصوص قسم کی موسیقی فائدہ بھی پہنچاتی رہی ہے، چنانچہ باسیت و قوتِ قلب (افسردگی و مایوسی) اور بلڈ پریشر (سخت و تیز دوران) و فشارِ خون اور دل و دماغ کے علاوہ بعض ذہنی و اعصابی امراض و عوارض میں موسیقی مفید و مجرب اور مؤثر بھی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔