Basta — Page 59

Urdu text
بعض علماء و مجتہدین اور مفسرین خصوصاً مولانا سید ذیشان علی صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ نے اپنے ترجمہ و تفسیرِ قرآن کے سلسلے میں علیحدہ علیحدہ موضوعات و عنوانات کے تحت مضامینِ قرآنِ مجید کی تفہیم و تشریح اور نشان دہی کے چکر “منہاج کا ناجا” کا عنوان قائم کر کے انہوں نے سورۂ حج کی تفسیرِ آیت اور سورۂ لقمان کی چھٹی آیت و نعت و مذمت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ آئے ہم ان آیات اور ان کے ترجمہ و تفسیر کا جائزہ لیتے ہیں۔
سورۃ الحج کی تیسویں آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ
اور لغو باتوں، گانوں وغیرہ سے بچے رہو۔
اس آیت اور ترجمے کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ اگرچہ اردو محاورات میں “زور” کے معنی بھاری کے ہیں مگر عربی معنی، جس زبان کا یہ لفظ ہے، اس کے چند معانی ہیں: جھوٹ، شرک، گانا وغیرہ۔ اور اس مقام پر ہر ایک معنی مراد لے سکتے ہیں۔ اسی بناء پر میں نے ایسا ترجمہ کیا جو سب کو شامل ہوا۔ (گویا یہ وسعت و عمومیت مترجم کی پیدا کردہ ہے اور صریح حکم نہیں ہے۔)
سورۂ لقمان کی چھٹی آیت مع ترجمہ و تشریح ملاحظہ فرمائیں:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
اور لوگوں میں بعض (نضر بن حارث) ایسا ہے جو بیہودہ قصے (کہانیاں) خریدتا ہے تاکہ بغیر سمجھے بوجھے (لوگوں کی خدا کی سیدھی) راہ سے بھٹکائے اور آیا [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔
“نضر (بن الحارث) تجارت کیلئے شام گیا اور وہاں سے رستم و اسفندیار کے قصے خرید لایا اور لوگوں کو سنا کر کہتا ‘محمد عاد و ثمود و ملکِ سلیمان کے حالات بیان کرتے ہیں تو میں رستم و اسفندیار کے قصے سناتا ہوں’ اور ان کی باتوں میں بعض لوگ آ جاتے۔ اسی کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور بعض مفسرین نے تفریح ‘الغناء’ سے گانا بجانا مراد لیا ہے اور اس آیت کا زور ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہے جو نادان مسلمانوں کو دینِ اسلام سے پھیرنے کے واسطے لوڈھیاں خریدتے اور ان کے گانے بجانے اور بیہودہ افعال پر فریفتہ کر کے اسلام سے روکتے۔”
گانے بجانے کی مذمت و ممانعت میں یہی دو آیات بڑی شاندار و سیدھی پیش کی جاتی ہیں۔ اصل متن اور ترجمہ و تشریح آپ نے ملاحظہ فرما لی، جس سے معلوم ہوتا ہے موسیقی و گائیکی بجائے خود حرام نہیں ہے بلکہ اسلام اور مذہب کو تخریب کرنے والے قصے کہانیاں اور لوڈھیاں کے بیہودہ افعال و اعمال اور اسلامی تعلیمات اور احکامات و عبادات اور فرائض سے روکتا قابلِ مذمت ہے اور جھوٹ، شرک یا بیہودہ باتوں اور فضول خلافِ اسلام باتوں سے روکا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات میں بھی بیہودہ باتوں سے مومن ہونے کو ایمان اور فلاح کا معیار قرار دیا گیا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ
یہی بات سورۂ فرقان کی آیت نمبر ۷۲ میں بیان کی جا رہی ہے کہ “اللہ کے حقیقی فرما بردار اور نیک بندے تو وہی ہیں کہ جو [متن جزوی طور پر غیر واضح] اور وہ لوگ جب کسی بیہودہ کلام کے پاس سے گزرتے ہیں تو بزرگوارانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔” اس آیت کا اصل متن ملاحظہ فرمائیں۔