Basta — Page 60

Original book page
Original scan of Basta page 60

Urdu text

وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اس طرح اب تک کی بحث میں آپ نے لہو و لعب، لہو الحدیث، قول الزور، لغو اور غنا وغیرہ کے معانی و مفاہیم اور متعلقہ آیات و احکامات کا مطالعہ فرما لیا۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ ان محدود و مذکورہ بالا آیات سے ہر قسم کی موسیقی و غنا کا کلیتاً حرامِ مطلق تو کیا کچھ سادہ طور پر بھی حرام ہونا واضح اور ثابت ہوتا ہے؟ ان آیات کے علاوہ کوئی آیت پیش نہیں کی جاتی اور یہ آیات غیر واضح، مبہم و متشابہ و غیر محکم، یعنی حرمتِ غنا کے ثبوت کیلئے ناکافی و غیر متعلق ہیں! “الغناء أشدّ...” والا مقولہ نہ حدیث ہے نہ آیت۔ غنا خود بھی واضح اور متعین نہیں ہے۔ بعض روایات جو بعض معصومین سے منسوب ہیں تو انہیں لہو و لعب اور نفس و فنی کی محفلِ شیطانی، مجلسیں اور نفسانی، شہوانی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی باتیں ناپسندیدہ قرار دی گئی ہیں۔ جہاں تک مجتہدینِ عظام کی احتیاطی تاکید اور ممانعت کی بات ہے تو وہ فکر سے انہیں سے ڈر کے کیجئے۔ اب آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ جب مجتہدین و مراجع احتیاطاً ممانعت کرتے رہے ہیں تو پھر آپ اس کے جواز پر کیوں مصر ہیں؟! تو اس کی وجہ یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام اور ذکر و ذاکرِ اہلبیت کی حوصلہ شکنی کیلئے انتہا پسند تنگ نظر جنونی طبقات صلوٰۃ و سلام اور نعت خوانی و سماع اور سوز و سلام و نوحہ کو بھی ملعون کرتے رہتے ہیں، جبکہ یہاں عام غنا و موسیقی اور گائیکی کی حرمت بھی نصِ صریح سے ثابت نہیں ہو رہی! چنانچہ حسین داؤدی اور محمد و مزامیر کے [متن جزوی طور پر غیر واضح] سے، بلکہ قریبی کی بستی میں آخرت کے دور و صدر کے موقع پر بچیوں کا دف بجانا، گانا اور غنا، گلوکار خیز مقدس گیتوں کا استقبال، تاریخِ اسلام، مجید کی قرأت و تلاوت میں حسن و تحمل و ادائیگی کا لحاظ و اہتمام کرنا، کربلا اور شام کو نوکی منزلیں طے کرنے کے مدینہ واپسی کے موقع پر اس قافلہ کی وطن میں آمد و واپسی کی اطلاع رسانی کیلئے خواندہ زوار رسالت مآب کی جانب سے بشر بن حذلم کو اس خدمت پر مامور و مقرر کرنا کہ وہ حسن و ترنم اور اشعار میں اہلِ مدینہ کو دیں۔ علاوہ ازیں عالمِ اسلام میں حسنِ قرأت و سماع و آہنگی کو مخصوص طریقوں پر ادا کرنے اور آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ الموسوی الخمینی اعلیٰ اللہ مقامہ کے جمہوری و اسلامی ایران میں ان کی نگرانی و سرپرستی اور دورِ حکومت کے علاوہ ان کی رحلت کے بعد بھی ولایتِ فقیہ کے عہدِ حکومت میں بھی حسبِ ضرورت ساز و آلاتِ موسیقی کا استعمال، دوسری طرف اہلِ شریعت و صاحبانِ طریقت، بزرگانِ دین و اولیاء کرام میں سماع و قوالی کا رواج اور اس کے جواز کے دلائل بھی بجائے خود اس امر کی دلیل ہیں کہ ایسا گانا اور ساز جو کسی واضح حکمِ الٰہی سے متصادم نہ ہو اور حقوق اللہ، حقوق العباد یا حقوق النفس کو متاثر و مجروح نہ کرے، جائز و مباح اور بعض اوقات عبادت و سعادت بھی ہے۔ اس سلسلہ میں نقادِ عام کی سخت گیری وہی معاملہ لگتا ہے کہ “گھس کو باغ میں جانے نہ دینا!” بہرحال جن مجتہدین و علماء کرام نے ازراہِ احتیاط اس ضمن میں تحفظ اور سخت رویہ اختیار کیا ان کی نیک نیتی اور مقاصد شک و شبہ سے بالا تر ہیں کہ ان کا صحیح نظر یہ رہا ہوگا کہ موسیقی میں چونکہ فوائد کی نسبت عوام الناس اور ناپختہ اذہان نوجوانوں کے لئے نقصانات کے خطرات و خدشات زیادہ ہیں کہ ایک ملعونیت ہو کر ہر شخص کیلئے توازن و اعتدال میں رہنا اور دوسرے افراد سے اضافت کرنا ذرا مشکل ہی ہے۔ اس لئے زیادہ نقصانات کے پیشِ نظر محدود فوائد کی قربانی اور حوصلہ شکنی کو بہتر سمجھتے ہوئے ان کی ممانعت و [جاری]۔