Basta — Page 67

Original book page
Original scan of Basta page 67

Urdu text

تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا رضی جعفر نقوی مجتہد برادرم مکرم و محترم جناب سید سبط جعفر صاحب دام مجدہ، جو مشہور و معروف شاعر، منقبت خواں، سوزخواں، نوحہ خواں، ادیب اور مبلغِ شعائرِ اہل بیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایڈووکیٹ اور پروفیسر بھی ہیں، ہماری ملت کے ان انتہائی بے لوث و مخلص درد مند نوجوانوں میں سے ہیں جو کسی [ذاتی مفاد] کے بغیر ملک اور بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں سے قوم کی خدمت کرتے ہیں اور جدوجہد کے ساتھ لوگوں کی اصلاحِ فکر کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات میرے لئے باعثِ مسرت ہے کہ موصوف کا اندازِ فکر اچھوتا اور ان کے محسوسات و طبیعت کا تقاضا ایسا منفرد ہے کہ وہ الگ سب ہوا یا مختلف نظر ہوا ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ سوزخواں و مرثیہ خواں ہمیشہ مذہب سے بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ تاریخ کے مختلف زمانوں میں وہ ذاکر و خادمِ اہل بیت رہے ہیں۔ سید سبط جعفر نے اپنی پوری زندگی کو خود احتسابی کا شکار [یا شعار] بنایا اور فنِ سوزخوانی اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے نمایاں کام کیا۔ انہوں نے “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” اور مرتبۂ کلامِ اہل بیت کے اندر ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے نسیمِ گلشن اور بالخصوص سوزخوانی کی آبادیاں اور عزاخانوں میں جا بجا تربیتی نشستیں قائم کر کے نوجوانوں کی ایک سوزخوان جماعتیں تیار کر دی ہیں جو بڑا کارنامہ ہے۔ اس خدمت کو نہایت عقیدت و احترام اور ذمہ داری سے آگے بڑھایا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ان کے اس کام کو پذیرائی نصیب ہو، مزید نوجوان اس طرف متوجہ ہوں اور یہ فن بہتر طور پر محفوظ رہے۔ [اختتامی سطر / شعر جزوی طور پر غیر واضح]