Basta — Page 74

Original book page
Original scan of Basta page 74

Urdu text

مرزا محمد اشفاق شورش لکھنوی مدظلہ (خطیب بند، پروفیسر شیعہ کالج لکھنؤ) ذاکر و شاعر و استاد و ادیب و نقاد پھول کب ہے چمنستان ہے سبط جعفر کرتب جلوہ سے خود اس کی نظر خیرہ ہے آئینہ دیکھ کے حیران ہے سبط جعفر ہر گھڑی رہتے ہیں عزت کے فضائل لب پر بخدا قاریِ قرآن ہے سبط جعفر سوزخوانی سے اسے عشق ہے سب شاہد ہیں نوحہ خوانی پہ بھی قربان ہے سبط جعفر بلند آواز سے کہتی ہے یہ بزمِ صدا بخدا میرا سلیمان ہے سبط جعفر ہونے والا ہے یقیناً کہیں ذکرِ سرور مجلسِ شاہ کا اعلان ہے سبط جعفر دست و بازو ہیں خدا کے، علیؑ و آخر سوزخوانی کی مگر جان ہے سبط جعفر سن کے آواز بھی کہتے ہیں یہ آپس میں دیکھئے کتنا خوش الحان ہے سبط جعفر تو اگر ہے زینتِ ہر مجلسِ ایصالِ ثواب عام سب پر ترا فیضان ہے سبط جعفر سب نے پہچانا ہے تجھ کو بہ طفیلِ شہرا تجھ پہ خالق کا یہ احسان ہے سبط جعفر الف سے آلِ محمدؐ کا جو دم بھرتا ہے اس پہ سو جان سے قربان ہے سبط جعفر ہم و ذر کوہر والوں سے کیا کام اسے بحر و کوثر و سلمان ہے سبط جعفر عشقِ شبیر تری زینت کا سرمایہ ہے حبِ حیدر ترا عنوان ہے سبط جعفر (طویل نظم سے اقتباس) (بشکریہ خطیب اکبر پروفیسر مرزا محمد اطہر مظفر) دعائیہ تاثرات وابستہ صاحبِ بستہ یعنی اہلیہ (مسز زیدی / شہید مومن ایوارڈ، بی ایڈی) دنیا و آخرت میں ملے گی اسے جزا معروف، مدحِ آلِ پیغمبر میں جو رہا ترتیب آپ نے جو دیا تحفۂ عزا اس کے صلے میں وارثِ غم سے ہے التجا جنت میں گھر ملیں گے ہمیں بالیقیں مگر اک گھر عطا ہو یاں بھی، پیٹے مجلسِ عزا “اصغر” اور “آلِ شیخ” امتیاز، آباد ان سب معاونین کو اللہ دے صلہ دانندہ قدرِ داں ہیں، ایوارڈ بھی معترف تابندہ اس کو کہتی ہے بینار نور کا وابستہ جو صاحبِ بستہ سے ہے یہ کنیز دن رات یہ حقیقت کی بی بی سے ہے دعا مقبول بارگاہِ جنابِ بتول ہو جو کام سبط جعفر خوش فکر نے کیا