Basta — Page 75

Urdu text
محقق و دانشور، نقاد و شاعر
پروفیسر سید غلام عباس
مختلف سطح پر اپنی تحریر و تقریر میں، میں نے ان تاثرات کا اظہار کر رکھا ہے کہ یہ اچھا، مفید اور اصلاحی کام ہے۔ میرے خیال میں یہ صرف ایک کتاب یا تصنیف نہیں بلکہ روایتِ زندگی کے کئی گوشوں کو محفوظ کرنے کا کام ہے۔ اگرچہ یہ خود بڑی سعادت بھی ہے اور پیغمبرِ کرم رکھنے اور عوام سے رابطہ کا ایک مؤثر و مستقل ذریعہ بھی، لیکن یہ کام تو ان سے کم اہلیت اور صلاحیت کے لوگ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ اب جبکہ انہوں نے اپنی فنی صلاحیتیں بھی تیار کر لی ہیں تو ضرورت امر یہ ہے کہ یہ تحقیقی کام کریں، جو انہوں نے اس سے پہلے بھی برادرم سرفراز احمد صاحب کے کہنے سے کیا تھا اور اب دوبارہ بھی اپنی نئی تحقیقی و تصنیفی و تالیفی کاوشوں پر کر رہے ہیں۔ یعنی تحقیق، تصنیف و تالیف۔ میرے لئے یہ بات بڑی طمانیت کی ہے کہ سرفراز احمد ان سے کام لینا جانتے ہیں اور یہ آگی بات ان کی بھی لیتے ہیں۔ ایک بات جو میری سمجھ میں آج تک نہیں آئی وہ یہ ہے کہ عمر بھر حق و قلم کیلئے انہیں کتنے معروض میں کہاں سے جاتے ہیں؟ بہرحال یہ ایک بڑا معجزہ تھا۔ خداوندِ عالم سے دعاگو ہوں کہ وہ ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائیں۔ آمین۔
دعاگو، غلام عباس
پیغام صدر انجمن سوزخوانان کراچی
(مظاہر علی کاظمی)
سوزخوانی کسی بھی شکل میں کبھی موسیقی سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ در حقیقت یہ ایک ایسا گلشن ہے جو خالص عقیدۂ خداوندی [جاری]
[پیغام / مضمون — جاری]
ہے، اور اس گلشن میں کچھ ایسا سوز اور درد ہوتا ہے کہ سامع کا دل پر تپ اٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبِ آل محمدؐ کو اس سے پڑھنے کا نام سوزخوانی ہوا۔
ہر صنفِ ہند پاک میں شروع میں ہندی و فارسی میں نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کی ابتدا ہوئی، اور اس کے بعد جب زبانِ اردو نے فروغ پایا تو اس زبان میں شعراء نے باقاعدہ مصنفی کے طور پر مرثیہ لکھنا شروع کیا اور اس کی مرثیوں اور نوحوں کو چند صاحبانِ اہل بیت نے جو کہ انتہائی تقی اور پرہیزگار تھے اور بڑی اچھی آوازوں میں پڑھنا شروع کیا۔ پھر سوزخوانی کی ابتدا بھی ایسے ہی ہوئی۔
والوں نے آئی ہوئی بڑی سوز و گداز کی آوازوں اور ان کی پوری ادائیگی کی قدیم بندشوں (طرزوں) کو اپنایا، جن میں سے بیشتر بندشیں (طرزیں) آج بھی اسی طرح رائج ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی بندشیں تخلیق ہوتی رہیں، مگر ان میں گائیکی زیادہ، سوز و گداز اور درد و غم کا جو انداز تھا وہ برقرار نہ رہا۔
جہاں تک موصوف کی تصنیف کا سوال ہے تو یہ یقیناً ایک عمدہ کاوش ہے اور اپنے موضوع پر غالباً یہ پہلی کتاب ہے۔ اس میں بعض باتیں ایسی قابلِ تعریف ہوں گی اور بعض باتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جن سے کچھ لوگ اختلاف رکھیں گے۔ اور ہر دم ہر حضرات اپنی رائے کا اظہار بھی کریں گے۔ کیونکہ بعض لوگ تنقید برائے تنقید کے عادی ہوتے ہیں اور کسی کے اچھے کام کو بھی اچھا کہنا نہیں چاہتے۔ میں مصنف سے گزارش کروں گا کہ تعریف سے خوش اور تنقید سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنی کاوش جاری رکھیں۔ انشاء اللہ بہتری ایسی شاملِ حال ہوگی۔
فقط دعاگو
مظاہر علی کاظمی