Basta — Page 76

Original book page
Original scan of Basta page 76

Urdu text

پروفیسر نجم الحسن نجمی رضوی (میوزیشن / کمپوزر) [تعلیمی و فنی اسناد کی سطر جزوی طور پر غیر واضح] راقم کیلئے یہ امر باعثِ عزت و افتخار ہے کہ اسے براہِ راست / تاثرات لکھنے کے لائق سمجھا گیا۔ زیرِ نظر کاوش سید سبط جعفر کے حسین مطالعہ و مشاہدہ اور ان کے فنِ سوزخوانی کے ادراک کا منہ بولتا شاہکار ہے، جس میں انہوں نے فنونِ خوش الحانی، غنا، موسیقی (بشمول موسیقی کا) مقدس سوزوں و میلِ قرآنی احادیث کی تکنیکی و سائنسی پہلوؤں کی مدد سے خوب لوہا ہے جو ایک جرأت مندانہ کاوش ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ پروفیسر صاحب کے اس مضمون کے مطالعہ کے بعد قاری غنا، موسیقی کے مقام پر دیگر لغویات کا فرق بخوبی سمجھ سکے گا اور سوز و سلام پر راگ یا راگنیوں کا الزام عائد نہ کرسکے گا۔ ہمارے کلاسیکی علوم و فنون کی ناقدری اور زوال پذیری کا رونا تو سبھی روتے ہیں، اس حقیقت کا ادراک کوئی نہیں کرتا کہ اس ناقدری اور زوال پذیری کے پس پشت ہمارے اساتذۂ کرام کا وہ رویہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے شاگردوں کو اپنے فن کی باریکیوں سے آگاہ نہیں کرتے بلکہ کبھی کسی کو اسے اپنے ہمراہ لے کر دنیا سے ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے بہت سے علوم و فنون کتابوں میں تو ملتے ہیں، اگلی زندگی میں ان کا کوئی ماہر تو کیا کوئی مبتدی بھی دور دور تک نظر نہیں آتا۔ عقیل عباس جعفری (محقق و شاعر / صحافی، ٹی وی انسائیکلوپیڈیا، پاکستان کے باسی و دیگر کتب) یہ غالباً ۱۹۸۹ء کی بات ہے جب سوزخوانی کے حوالے سے برادرم سبط جعفر کا پہلا مضمون روزنامہ جنگ میں اشاعت پذیر ہوا۔ میں نے بھی انہیں غالباً اس فن سے دلچسپی رکھنے والے کسی حضرات نے اس مضمون کو بڑی دلچسپی سے پڑھا کیونکہ میرے محدود علم اور مطالعہ کے مطابق اس موضوع پر شائع ہونے والا یہ پہلا مضمون تھا۔ انہی دنوں میری برادرم سبط جعفر سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اس فن پر مزید لکھیں۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے میری درخواست کو بھی لائقِ توجہ سمجھا اور اس کے بعد صرف اس فن پر بلکہ دوسرے متعلقہ علوم و فنون پر بھی کچھ نہ کچھ لکھتے رہے۔ انہوں نے مجھے اب تک کا جمع کیا ہوا سارا سرمایہ دکھایا۔ میں یہ سب دیکھ کر بڑی حیرت انگیز مسرت سے دوچار ہوا، کیونکہ ان موضوعات پر تھوڑا بہت الگ الگ کام تو میری نظر سے گزرا تھا، لیکن ان تمام موضوعات پر اتنا بھرپور کام میں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ میں نے برادرم سبط جعفر کو مشورہ دیا کہ وہ پہلی فرصت میں اس کام کو کتابی شکل دے ڈالیں۔ میں نے انہیں اس سلسلے میں اپنی تمام تر خدمات بھی پیش کیں مگر برادرم سرفراز احمد مجھ سے زیادہ خوش نصیب نکلے کہ اس سلسلے میں مجھ سے بازی لے گئے۔ اور اب آپ کی توجہ اور اشاعت ہی سے یہ تمام کام کتابی شکل میں اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔ اس کتاب کی علمی اور فنی حیثیت کے بارے میں تو ان فنون کے ماہر ہی بہتر بتا سکتے ہیں، میں تو [جاری]