Basta — Page 77

Original book page
Original scan of Basta page 77

Urdu text

اتنا جانتا ہوں کہ ہم جیسے مبتدیوں اور ان علوم اور فنون سے تھوڑی بہت شد بد رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب کسی خزانے سے کم نہیں۔ اللہ برادرم سبط جعفر اور برادرم سرفراز احمد کو اس نیک کام کی جزائے خیر دے۔ آمین۔ روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار آل محمد زیدی (مداح کراچی) میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سید سبط جعفر زیدی اپنے وجود کی سطح پر منفرد و مخصوص کے پابند ہیں، لیکن ان کی زندگی کا پہلا اور سب سے بڑا مقصد عزاداریِ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تبلیغ و ترویج ہے۔ ان کی شاعری ہو کہ نثر نگاری، خطابت ہو کہ صحافت، مجلس ہو کہ سوزخوانی، وہ ہر سطح پر اپنے مقصد کے حصول میں کوشاں و مستغرق دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی مقصد انہیں سوزخوانی کے میدان میں لایا ہوا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار سید سبط جعفر ہے۔ [عقیل عباس / سابقہ مضمون کی بقیہ سطور] پیچھے تو خطیب کو اس لئے نصیحت کرتے ہیں کہ وہ شوقِ بکا کو ذکرِ حسین کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اگر سوزخواں حضرات بھی گم کرنے کے نام پر ایسی قسم کی حرکت کریں؟! اکثر و بیشتر سوزخواں اشعار غلط پڑھتے ہیں اور تلفظ کا قطعاً خیال نہیں رکھتے۔ انہیں اس ذکر سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، لہٰذا سوزخوانی کے بعد اپنا بیاض مجلس میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اکثر و بیشتر سوزخواں واقعی نہیں رہتے، جبکہ وارثِ واجب اور اسے سند و ذاکر ہے۔ ذکرِ حسین میں ریاکاری شرعاً اول ہے۔ اگر کوئی غیر وارثی سے مولانا مجلس پڑھیں تو مومنین انہیں برف ملامت بناتے ہیں لیکن یہ سوزخواں جو خود ذاکرِ اول کہلاتے ہیں عشرۂ محرم میں روزانہ شبیر کے مجلس میں ذکرِ حسین بیان فرماتے ہیں، اکثر اوقات سوزخواں حضرات وقت کی پابندی نہیں فرماتے۔ اکثر سوزخوانوں کو یہ زعم اور خوشی بھی ہے کہ وہ سوزخوانی کی خدمت کر رہے ہیں۔ حقیقت امر یہ ہے کہ معیاری سوزخوانی سیکھنا دوسروں کو سکھانا، اس میں فنی اور انفرادی طور پر اضافہ کرنا ہی دراصل عزاداری اور سوزخوانی کی خدمت ہے۔ سوزخوانی کے ریتے نقوش میں دبا کر اور الفاظ وصول کر کے مجلس سے نکل جانا سوزخوانی کی وفا کامیابی یا سعادت تو ہو سکتی ہے، سوزخوانی کی خدمت بہرحال نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر ہر جگہ سے یہ بھی ملے تو معاشرے میں ذاکر و سوزخوان کی حیثیت سے اسے جو مقام و مرتبہ اور روزمرہ زندگی میں تعلقات حاصل کا جو فائدہ اسے حاصل ہوتا ہے، وہ بھی اسی مذہبِ عزا اور سوزخوانی کا صدقہ ہوتا ہے۔ سوزخوانی کے لئے بھی سلیقہ درکار ہوتا ہے۔ اگر سلیقہ ناپید ہو جائے تو کچھ خامہ بندی رہ جاتی ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیں کہ [جاری]