Basta — Page 78

Original book page
Original scan of Basta page 78

Urdu text

دلائل ہیں کہ جنگل رو سے ہم سید جعفر روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار کہہ رہے ہیں۔ سبط جعفر نے باقاعدہ ۱۹۴۵ء سے ۱۹۹۰ء کے دوران استاد مسعود امروہوی فن سے استفادہ کیا ہے اور ان کی شاگردی اختیار کی ہے اور وہ ان معروف اساتذہ کے بازو بھی رہے ہیں اور انجمنِ سوزخوانان کے عہدے دار بھی۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک تحریک، ایک ادارہ اور سوزخوانی کے فن میں یکتا کے درجہ کا اور ایک مکتبِ فکر ہیں، جن کی بنیاد ان کے اساتذہ استاد مسعود علی خان، اعلیٰ اللہ مقامہ، استاد واحد حسین خان خورجوی مرحوم اور استاد اشتیاق علی خان حیدری طاب ثراہ نے رکھی۔ سبط جعفر ہی نسل کے نمائندہ سوزخواں ہی نہیں، عہدِ حاضر کے نمائندہ سوزخواں ہیں۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کرام کے چھوڑے ہوئے ورثے اور روایات کو آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اپنے اساتذہ سے سیکھ کر بھی اسلوبِ ادائیگی، بندشوں اور اندازِ فکر میں اجتہاد کیا ہے۔ فنی رویے میں الگ روایت قائم کرنے کی کوشش کے باوجود ان پر پرچی کا ایک بھی سایہ ڈالنے میں آج تک ناکام رہا ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت، قوتِ واجب کی عطا، اہلیت کا کرم اور اپنے اساتذہ کرام کی مہربانی قرار دیتے ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں جب فنِ سوزخوانی کا دھماکا بالکل ختم ہو رہا تھا، سبط جعفر اس بوجھ سلسلے کی رو بن کر سامنے آئے، فن سوزخوانی کے اتنی سے سید جعفر کا طلوع ایک اچھی علامت اور نیک شگون ہے۔ انہوں نے نہ صرف فنِ سوزخوانی کی تجدید کی بلکہ سائنسی [عزدارانِ حسین] کے ذوق کو بھی ابھارنے کی کوشش کی اور نئی سوزخوانی کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ کہ یہاں کہانی کی بھی کوشش کی۔ وہ اپنی کم عمری سے ذکرِ حسین اور تقریباً پندرہ سال کی عمر (۱۹۷۲ء) سے سوزخوانی کر رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے اندرونِ شہر تو کیا کسی بیرونِ شہر کی کسی قسم کی نذر و نیاز سے کمائی بھی قبول نہیں کی۔ وہ سوزخوانی میں تلفظات اور ادائیگی کے معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے ہیں۔ سوزخوانی کر کے اگر انہیں کہیں اور نہیں جانا اور کوئی مصروفیت نہ ہو تو مجلس میں ضرور شرکت کرتے ہیں اور درمیان سے اٹھ کر چلے جانے کو پسند نہیں کرتے۔ وہ عام نوحہ، مرثیہ، مجلس، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ سے حتی الامکان پرہیز کرتے ہیں اور ایسی مجالس میں جانا پسند کرتے ہیں اور عبادت سمجھتے ہیں کہ جہاں پڑھنے والے کی واقعی ضرورت یا کمی ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف خود وارثی رکھتے ہیں اور واجبات کی ادائیگی کے پابند ہیں بلکہ ان کے بازو اور شاگرد بھی وارثی رکھتے ہیں، کیونکہ خواص نہیں رکھتے [چونکہ خواص نہیں رکھتے؟] شاید اسی لئے وہ انہیں شاگرد نہیں بناتے۔ وہ واجبات کی ادائیگی کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اپنے استاد کی طرح کسی قسم کا نذرانہ یا کرایہ قبول نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ جو دیا سبط جعفر کے اساتذہ نے دیا تھا وہ آج بھی فن زندہ ہے اور دیئے سے دیا جلانے کی رسم آگے بڑھ رہی ہے۔ سید سبط جعفر کے بازو اور بہت سے شاگرد بھی اب مکمل اور بہترین سوزخواں بن چکے ہیں لیکن چونکہ وہ ذکر حسین کو ذریعۂ شہرت اور خود کو وارث سمجھتے ہیں، لہٰذا نذرانہ یا استادی کی رنگ میں آ کر دیگر سوزخوان حضرات کے بازو کی طرح اپنی علیحدہ پارٹی بنانے کے تصور کو بھی پسند نہیں کرتے بلکہ سبط جعفر کے منعوا، سبط جعفر کے مظلوم اور ضعیف اہل بیت [جاری]